0

مرزا غالب کا 222 واں یومِ پیدائش آج منایا جارہا ہے

کراچی: لازوال شہرت کے حامل اردو اور فارسی کے ممتاز شاعر مرزا غالب کا 222ں آج یومِ ولادت منایا جارہا ہے۔
مرزا اسد اللہ خان غالب نے دیوان کے ڈھیر لگانے کی بجائے بہترین شاعری کے حامل چند ہزار اشعار کہے ہیں اور ان کے خطوط کو بھی اردو ادب میں خاص درجہ حاصل ہے۔اس طرح مرزا غالب کے خطوط کو نثری ادب کا شاہکار سمجھا جاتا ہے۔ آپ کا پورا نام مرزا اسداللہ بیگ تھا اور غالب تخلص تھا لیکن اپنے نام اسد کو بھی انہوں نے بعض غزلوں میں بطور تخلص استعمال کیا ہے مثلا۔ غمِ ہستی کا اسد کس سے ہو جزو مرگ علاج۔27 دسمبر 1797 کو مرزا غالب کالا محل، آگرہ میں پیدا ہوئے اور آپ کے والد کا نام عبداللہ بیگ اور والدہ کا نام عزت النسا بیگم تھا۔ 13 برس کی عمر میں آپ کی شادی امرا بیگم سے ہوئی لیکن غالب کی کوئی اولاد بھی پیدائش کے بعد جانبر نہ رہ پائی۔ ان سانحات کا غالب کی طبعیت پر گہرا اثر ہوا اور اس کا رنگ شاعری میں بھی نمایاں رہا۔لب کی شاعری اور نثر نے اردو ادب پر گہرے نقوش چھوڑے اور انہوں نے فارسی اسلوب کے علاوہ سنجیدہ اور سلیس زبان میں بھی نہایت گہرے اشعار پیش کیے۔ اس ضمن میں دیوانِ غالب کئی اشعار سے بھرا ہوا ہے۔ غالب زندگی بھر تنگ دستی اور غربت کے شکار رہے۔ایک جانب تو انگریز سرکار کی جانب سے انہیں اپنی ہی جائیداد میں حصہ نہ مل سکا تو دوسری جانب کفایت شعاری نہ ہونے کی وجہ سے وہ زندگی بھر تہی دست رہے۔ عمر کے آخری دنوں میں ان کی رسائی مغل سلطنت کے آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے محل میں ہوئی اور انہیں نجم الدولہ اور دبیرالملک کے خطابات بھی دیئے گئے، خلعت دی گئی اور معاوضہ بھی مقرر کیا اس کے بعد جنگِ آزادی کے سلسلے میں گلی گلی جنگ چھڑگئی اور دہلی کو تاراج کیا گیا۔ بے شمار لوگوں کو انگریزوں نے سرِ عام پھانسی دی جس نے مرزا غالب کی نفسیات کو جھنجھوڑ کررکھ دیا یہاں تک کہ خود مغلیہ سلطنت بے عمل ہوکر رہ گئی تھی اور اس کے بعد پورا ہندوستان انگریزوں کے قبضے میں فساد، شورش اور غارت گری کے سارے واقعات خود مرزا غالب نے آپنی آنکھوں سے دیکھے اور شدید غمگین رہے۔ 15 فروری 1869 میں مرزا غالب اس جہانِ فانی کو چھوڑ کر خالقِ حقیقی سے جاملے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں