0

چوہوں پر یونیورسل فلو ویکسین کے کامیاب تجربات

اٹلانٹا: امریکی ماہرین نے انفلوئنزا کی تمام اقسام کے خلاف مثر یونیورسل فلو ویکسین کے تجربات مزید آگے بڑھاتے ہوئے اسے چوہوں میں بھی بڑی کامیابی سے آزمایا ہے۔ریسرچ جرنل ایڈوانسڈ ہیلتھ کیئر مٹیریلز کے ایک حالیہ شمارے میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق، یہ ویکسین دو طرح کے نینو ذرات (نینو پارٹیکلز) پر مشتمل ہے جنہیں دو اہم انفلوئنزا پروٹینز سے تیار کیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک میٹرکس پروٹین 2 ایکٹوڈومین (ایم ٹو ای) جبکہ دوسرا ایک خامرہ (اینزائم) ہے جو نیورامنیڈیز (این اے) کہلاتا ہے۔ ابتدائی تجربات میں کامیابی کے بعد اس یونیورسل فلو ویکسین کو چوہوں میں آزمایا گیا تو معلوم ہوا کہ اس نے چار مہینے تک چوہوں کو کسی بھی قسم کے انفلوئنزا سے محفوظ رکھا۔اس تحقیقی منصوبے پر اٹلانٹا میں واقع جیورجیا اسٹیٹ یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار بایومیڈیکل سائنسز پر کام ہورہا ہے جہاں اب اس یونیورسل فلو ویکسین کی انسانوں پر اولین لیکن محدود آزمائشوں کی تیاریاں جاری ہیں۔واضح رہے کہ انفلوئنزا کو عام انگریزی میں فلو (Flu) اور اردو میں زکام بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بیماری وائرس سے ہوتی ہے اور خود فلو کی کئی اقسام ہیں۔لیکن خطرناک بات یہ ہے کہ انفلوئنزا وائرس بہت جلدی جلدی تبدیل ہوتا ہے اس لیے اگر ایک فلو ویکسین اس سال کارآمد ہے تو بہت ممکن ہے کہ وہ اگلے سال میں بالکل ناکارہ ہوجائے۔یہی وجہ ہے کہ ادویہ ساز کمپنیوں کو ہر سال نئی فلو ویکسین تیار کرنے کے علاوہ، فلو کی ہر قسم کیلیے بھی علیحدہ علیحدہ ویکسین بنانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ماہرین برسوں سے ایک ایسی فلو ویکسین کی تلاش میں تھے جو کسی بھی قسم کے زکام کا علاج کرسکے؛ اور جس کی افادیت پر فلو وائرس میں ہونے والی ظاہری تبدیلیوں سے کوئی فرق بھی نہ پڑے۔ اسی خاصیت کی بنا پر اس ویکسین کو، جو اب تک تیار نہیں ہوسکی ہے، یونیورسل فلو ویکسین کا نام دیا جاتا ہے

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں