0

کیا الٹرا سانڈ سے کینسر کا علاج بھی ہوسکے گا؟


پیساڈینا، کیلیفورنیا: سائنسدانوں نے کم شدت والی الٹرا سانڈ لہریں سرطان زدہ پھوڑوں (کینسر ٹیومر) پر مرکوز کرکے انہیں اس انداز سے ختم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے کہ آس پاس کے صحت مند خلیوں کو کچھ بھی نہیں ہوا۔واضح رہے کہ الٹرا سانڈ دراصل آواز ہی کی ایسی لہریں ہوتی ہیں جنہیں ہمارے کان نہیں سن سکتے۔ الٹرا سانڈ سے کینسر ٹیومر کا خاتمہ بھی کوئی نہیں بات نہیں بلکہ یہ تکنیک بھی برسوں سے استعمال ہوتی آرہی ہے۔البتہ، اب تک اس مقصد کیلیے زیادہ شدت والی الٹرا سانڈ لہروں کو مرکوز (فوکس) کرکے استعمال کیا جاتا رہا ہے، جس کی وجہ سے کینسر ٹیومر کے ساتھ ساتھ آس پاس کے صحت مند خلیے بھی تباہ ہوجاتے ہیں۔ اس طرح کبھی کبھی مریض کو فائدہ ہونے کے بجائے الٹا نقصان ہی پہنچ جاتا ہے۔اس ضمن میں الٹرا سانڈ کو محفوظ تر بنانے کیلیے کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور سٹی آف ہوپ بیکمین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین نے مشترکہ تحقیق میں یہ دریافت کیا ہے کہ اگر زیادہ شدت کے بجائے کم شدت والی الٹرا سانڈ لہریں استعمال کی جائیں تو اس سے صرف وہی خلیے تباہ ہوں گے کہ جنہیں نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان کے علاوہ دوسرے خلیے بالکل محفوظ رہیں گے۔انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ کم شدت والی الٹرا سانڈ، صحت مند خلیوں کیلیے تو بے ضرر ہوتی ہے لیکن سرطانی رسولیوں (کینسر ٹیومرز) میں موجود خلیوں کو ان کی بعض اہم ظاہری خصوصیات کی بنا پر ہلاک کردیتی ہے۔یہ جاننے کے بعد انہوں نے سرطان زدہ رسولیوں پر نئی تکنیک کے تجربات کیے جن میں خاطر خواہ کامیابیاں حاصل ہوئی۔ اس تحقیق کے نتائج اپلائیڈ فزکس لیٹر نامی ریسرچ جرنل کے تازہ شمارے میں شائع ہوئے ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں