0

ویکسین کو سرد اور محفوظ رکھنے والی شفاف جھلی تیار


ٹیکساس: جان لیوا امراض کو روکنے میں ویکسین کے کردار سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ۔ لیکن غریب اور پسماندہ ممالک میں ویکسین کو ایک مقام سے دوردراز علاقوں تک بھیجنا محال ہوتا ہے۔ اسی کمی کو دور کرنے کے لیے ایک شفاف جھلی نما لفافہ تیار کیا گیا ہے جو نہ صرف ویکسین کو محفوظ رکھتا ہے بلکہ اس کے لیے ریفریجریٹر کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔یونیورسٹی آف ٹیکساس آسٹن کے سائنسدانوں نے ان تھک محنت کے بعد ایک شفاف مادہ بنایا ہے جس میں ویکسین کو لپیٹا جاسکتا ہے۔ لیکن ویکسین ایک زندہ جسم کی طرح ہوتی ہے اور یوں انہیں محفوظ اور سرد رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ ترقی پذیر اور غریب ممالک میں ویکسین کو ٹھنڈا رکھ کر اس کی کولڈ چین کو برقرار رکھنا بہت مشکل ہوتا ہے اور اسی لیے سائنسدانوں نے ویکسین کے لیے یہ حیرت انگیز شفاف جھلی تیار کی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اگر ویکسین کو محفوظ اور مسلسل کارآمد رکھا جائے تو ہرسال لاکھوں افراد کی جان بچائی جاسکتی ہے۔ ویکسین کی منتقلی کے لیے ڈرون یا انہیں خشک کرکے منجمند کرنے کے طریقے بھی سامنے آئے ہیں لیکن ان سب میں اپنی خوبیاں اور خامیاں ہیں۔جس طرح قدرتی گوند یا رال میں کیڑے مکوڑوں لاکھوں کروڑوں سال تک محفوظ رہتیہیں عین اسی طریقے پرغور کرتے ہوئے مختلف نمک اور شکریات کی آزمائش کی اور کل 450 ناکامیوں کے بعد ایک مٹیریل بنایا ہے جو ٹافی کی طرح سخت ہوتا ہے۔آخرکار سائنسداں ایسا مٹیریل بنانیمیں کامیاب ہوگئے جو سختی میں ٹافی جیسا ہے اور اس میں ویکسین رکھ کر اس پر مختلف پرتیں چڑھائی جاسکتی ہیں ۔ پھر ایک کے بعد ایک پرت اتار کر ویکسین باہر نکل آتی ہے اور اس عمل میں اس کی افادیت پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔شفاف لیکن سخت جھلی بنانے والی ٹیم کی ماہر ماریہ اے کروئل نے بتایا کہ ہر ویکسین اور اس کے تقاضوں کے تحت ہم اپنی اختراع میں خاطر خواہ تبدیلیاں کرسکتے ہیں اور ہر ویکسین کے مطابق جھلی تیار کی جاسکتی ہے۔ ماہرین نے اس طریقے سے ایبولہ کی ویکسین بند کرکے اسے ایک عرصے تک محفوظ رکھنے کا عملی مظاہرہ بھی کیا ہے اور اس کے لیے کسی ریفریجریٹر کی ضرورت نہیں رہتی ۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں