0

ہر طرح کے زکام سے بچانے والی ویکسین کی طبی آزمائش کامیاب

لندن: طبی ماہرین نے ہر قسم کے زکام سے بچانے والی یونیورسل فلو ویکسین کی کامیاب انسانی آزمائشیں (فیز 2 کلینیکل ٹرائلز) مکمل کرلی ہیں اور اب وہ اسے اگلے مرحلے پر آزمانے کیلیے تیار ہیں۔واضح رہے کہ کوئی بھی نئی دوا سب سے پہلے جانوروں پر آزمائی جاتی ہے جس کے بعد اسے انتہائی احتیاط کے ساتھ 15 سے 30 مریضوں پر آزمایا جاتا ہے اور اس کے مفید و مضر اثرات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ ان آزمائشوں کو فیز 1 کلینیکل ٹرائلز کہا جاتا ہے۔اس مرحلے میں کامیابی کے بعد یہی دوا اگلے مرحلے میں 100 کے لگ بھگ مریضوں پر آزمائی جاتی ہے جسے فیز 2 کلینیکل ٹرائلز کہتے ہیں۔اگر یہ دوا یہاں بھی کامیاب ثابت ہوتی ہے تو پھر فیز 3 کلینیکل ٹرائلز کا مرحلہ آتا ہے جس میں یہ نہ صرف تقریبا 3000 مریضوں پر آزمائی جاتی ہے بلکہ اس کے اثرات کا موازنہ اسی قسم کی دیگر دواں کے اثرات سے بھی کیا جاتا ہے۔اس کے بعد ہی کہیں جا کر کوئی نئی دوا بڑے پیمانے پر تیاری اور فروخت کیلیے منظور کی جاتی ہے۔فلو (زکام) کی نئی دوا جسے فلو وی (FLU-v) کا نام دیا گیا ہے، مصنوعی طور پر تیار کی گئی ہے اور اب تک کے تجربات میں اسے کئی اقسام کے زکام کی طویل مدتی روک تھام میں مفید پایا گیا ہے۔ اسے لندن کی ادویہ ساز کمپنی سِیک اے کیور نے وضع کیا ہے۔کمپنی کی چیف سائنٹفک آفیسر اولگا پلیگویلوس کہتی ہیں کہ یہ دوا انفلوئنزا (فلو) وائرس کو ناکارہ کرنے کیلیے ان حصوں کو نشانہ بناتی ہے جو اس وائرس کی تمام اقسام میں یکساں ہوتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت کم تبدیل ہوتے ہیں۔اب تک جتنی بھی فلو ویکسینز بنائی گئی ہیں، ان میں وائرس کو ناکارہ کرنے کیلیے ایسے حصوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے جو کچھ عرصے میں تبدیل ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے ویکسین بھی بے کار ہوجاتی ہے۔فلو وی تیار کرنے کیلیے ماہرین نے کمپیوٹر الگورتھم استعمال کرتے ہوئے انفلوئنزا وائرس کے ان حصوں کا پتا لگایا جن کی وجہ سے جسمانی دفاعی نظام (امیون سسٹم) میں مضبوط اور مثر ردِعمل بیدار ہو کر وائرس کا قلع قمع کرسکتا ہے۔ پھر ان میں سے بھی وائرس کے ایسے حصے شناخت کیے گئے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت کم تبدیل ہوتے ہیں

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں