0

سینیٹائزر کی ضرورت نہیں، عام صابن سے ہاتھ دھونا ہی کافی ہے، سائنسدان کا مشورہ


سڈنی: کورونا وائرس سے بچا کیلیے عوام اس حد تک پاگل ہوچکے ہیں کہ ہینڈ سینیٹائزرز، جنہیں عام دنوں میں کوئی نہیں پوچھتا، آج بیشتر مارکیٹوں سے غائب ہوچکے ہیں؛ اور اگر کہیں سے مل بھی رہے ہیں تو بہت مہنگے داموں میں۔اس صورتِ حال کے پیشِ نظر نیوساتھ ویلز یونیورسٹی، سڈنی میں کیمیا (کیمسٹری) کے پروفیسر پیلی تھورڈارسن نے 25 سلسلہ وار ٹویٹس کی مدد سے واضح کیا ہے کہ اگر ہاتھوں کو صرف صابن اور پانی سے مناسب طور پر دھو لیا جائے تو دیگر وائرسوں کے ساتھ ساتھ کورونا وائرس بھی بالکل ختم ہوجائے گا:اپنی ٹویٹس میں انہوں نے صابن سے متعلق کیمیا اور وائرس کی ساخت بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ، کورونا وائرس سمیت، کسی بھی وائرس کا تمام جینیاتی مواد ایک سالماتی خول میں بند ہوتا ہے جس میں چکنائی (لپڈ) کی دوہری پرت (lipid bilayer) کسی حفاظتی غلاف کا کام کرتی ہے۔
دلچسپی کی بات یہ ہے کہ چکنائی کی یہی دوہری پرت، عام صابن کے سامنے بے حد کمزور ہوتی ہے کیونکہ صابن کا ایک اہم کام چکنائی کا خاتمہ کرنا بھی ہوتا ہے۔جب ہم ہاتھ گیلے کرکے ان پر اچھی طرح صابن ملتے ہیں تو وہ دوسری چکنائیوں کے ساتھ ساتھ وائرس کے حفاظتی غلاف پر بھی حملہ آور ہوتا ہے اور (کیمیائی عمل کرتے ہوئے) سیکنڈوں میں اس غلاف کو تباہ کرکے رکھ دیتا ہے۔وائرس میں موجود جینیاتی مواد، جسے وہ اپنے وبائی پھیلا کے دوران استعمال کرتا ہے، اس قدر نازک ہوتا ہے کہ وہ حفاظتی غلاف کے تباہ ہوتے ہی بکھر کر رہ جاتا ہے اور وائرس مکمل طور پر ختم ہوجاتا ہے

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں