0

کورونا وائرس: چین اور امریکا میں ٹوئٹر پر جنگ چھڑ گئی


واشنگٹن/ بیجنگ: گزشتہ روز امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ چین نے کورونا وائرس کے بارے میں مناسب احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کیں اور کئی قیمتی دن برباد کیے جن کی وجہ سے یہ وائرس پوری دنیا میں پھیلا اور آج اٹلی اس سے بدترین طور پر متاثر ہے۔ علاوہ ازیں، وائٹ ہاس میں پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ناول کورونا وائرس (کووِڈ 19) کو چائنیز وائرس کہا تھا جس پر چین کی جانب سے شدید غصے کا اظہار کیا جارہا ہے۔چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ہوا چنیائنگ نے مائیک پومپیو کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے اپنی ٹویٹس میں لکھا کہ امریکی وزیرِ خارجہ سچ کو سے واقف ہوتے ہوئے بھی جھوٹ بولنا بند کریں کیونکہ عالمی ادارہ صحت نے بھی وائرس کی روک تھام کیلیے چین کے بروقت اقدامات کو سراہا ہے۔ بصورتِ دیگر اس کے متاثرین کی تعداد کہیں زیادہ ہوسکتی تھی:امریکی حکام کی جانب سے چین اور دوسرے ممالک کیلیے 10 کروڑ ڈالر امداد پر امریکی عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے ٹویٹ کیا: درحقیقت ہمیں (چین کو) اس میں سے ایک ڈالر بھی نہیں ملا۔ لیکن کیا امریکا نے عالمی ادارہ صحت کے واجبات ادا کردیئے ہیں؟ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے لکھا کہ چین نے امریکی حکومت کو 3 جنوری کے دن ہی ناول کورونا وائرس کی وبا سے آگاہ کردیا تھا جبکہ امریکی محکمہ خارجہ 15 جنوری کو ووہان کا سفر کرنے والے امریکیوں کیلیے ٹریول ایڈوائزری بھی جاری کرچکا تھا۔ اور اب چین پر تاخیر کا الزام؟ کیا آپ سنجیدہ ہیں؟ چنیائنگ نے لکھا:امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان مورگن اورٹاگس نے جوابی ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا: 3 جنوری تک چینی حکام کووِڈ 19 وائرس کے نمونے تباہ کرنے کا حکم دے چکے تھے، ووہان کے ڈاکٹروں کو خاموش کرچکے تھے اور انٹرنیٹ پر عوامی تشویش کو سینسر کرچکے تھے۔ اس ٹائم لائن کی واقعی تفتیش ہونی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں