Get Adobe Flash player

سینٹ قومی اسمبلی،فضل الرحمن پر حملے کیخلاف سمیت متعدد قراردادیں اتفاق رائے سے منظور

سینٹ نے سینٹ فورم برائے پالیسی تحقیق کے قیام  اسلامی بینکاری کو فروغ دینے مولانا فضل الرحمن پر خود کش حملے کیخلاف پارلیمنٹ کو فاٹا کیلئے قانون سازی کا اختیار دینے اور سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا دائرہ کار قبائلی علاقوں تک بڑھانے کی قراردادیں اتفاق رائے سے منظور کرلیں ۔پیر کو سینٹ کا اجلاس ڈپٹی چیئر مین صابر بلوچ کی زیر صدارت ہوا اجلاس کے دوران قائد ایوان سینیٹر راجہ محمد ظفر الحق نے تحریک پیش کی کہ قواعد ضابطہ کار و انصرام کارروائی سینیٹ 2012ء کے قاعدہ 269 کے ذیلی قاعدہ 4 کے تحت ترامیم پیش کرنے کی اجازت دی جائے جس کی ایوان نے منظوری دی  سینٹ فورم برائے پالیسی تحقیق 16 اراکین پر مشتمل ہو گا، آٹھ سینیٹ کے موجودہ اراکین اور آٹھ سابق اراکین سینٹ جن کو چیئرمین سینٹ ایوان میں پارلیمانی رہنمائوں کی مشاورت سے نامزد کریں گے۔ چیئرمین سینٹ فورم کے سرپرست ہوں گے، فورم کے چیئرمین کا انتخاب فورم کے قیام یا تشکیل نو کے بعد ہونے والے پہلے اجلاس میں ان کے اراکین میں سے کیا جائے گا۔ سیکرٹری سینٹ فورم کے سیکرٹری بلحاظ عہدہ ہوں گے اور فورم کے ریکارڈ کی دیکھ بھال کے ذمہ دار ہوں گے اور اس کی ایماء پر خط و کتابت کریں گے۔ اراکین کی میعاد تین سال کے لئے ہو گی، آئین کے آرٹیکل 59 کی شق 3 کے تحت چیئرمین نو منتخب شدہ اراکین کے آغاز کے تیس دن کے اندر فورم کے اراکین کو نامزد کریں گے۔ رکن کسی بھی وقت مستعفی ہو سکتا ہے، اگر رکن کے استعفیٰ یا کسی اور وجہ سے عہدہ خالی ہو جائے تو قاعدہ 670(1) میں وضع کردہ طریقہ کار کے مطابق چیئرمین اس کی جگہ فورم میں ایک نئے رکن کو نامزد کریں گے