آم کی برآمد،کوالٹی کنٹرول پر عملدرآمد پاکستان کی شاندار کامیابی ہے،سکندر حیات بوسن

آم کی برآمد کو بین الاقوامی میعار کے مطابق بنانے میں کوالٹی کنٹرول پر عملدرآمد پاکستان کی شاندار کامیابی ہے۔ اس سال آم کی بر آمد میں پاکستان نے شاندار کامیابی حاصل کی۔ جبکہ انڈیا سے یورپ میں ہونے والی بر آمدات پر Quorantine Pests کی وجہ سے اور  382 Interception کی وجہ سے پابندی لگا دی گئی ہے۔ ہمارے برآمدی نظام میں بہت سی خامیاں تھیں لیکن تمام Stakeholders نے اپنے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے آگے بڑھے اور اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے اییک جامع ایکشن پلان بنایا۔ جسکے نتیجے میں گزشتہ سال کی 236 ٰInterceptions  کے مقابلے میں  2 ہوئیں جو کہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ ہمارے پاس اب اچھے نتائج ہیں اور مایوسی خوشی میں تبدیل ہو چکی ہے۔اور اس امر کے لیے ہم ان ایکسپورٹرز جن کی کاوشوں کی وجہ سے ہم یورپی یونین کی تجارتی پابندیوں سے محفوظ رہے۔ ہم نے نہ صرف یورپی منڈیوں میں انڈین حصے کی بر آمد کی بلکہ کیٹروں اور بیماریوں سے پاک بر آمدات کے ذریعے بین الاقوامی تجارتی نظام کا حصہ بنے رہے۔ پاکستانی آم کی برآمدی صلاحیت کے اضافے میں وزارت کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سیکٹر کا بھی اہم کردار ہے۔اس بات کا اظہار سکندر حیات بوسن ، وفاقی وزیر برائے قومی تحفظ خوراک و تحقیق نے آم کی برآمدات کی شاندار کامیابی پر قومی سطح کی تقریب تقسیم انعامات ، شیلڈ ز، میڈل ، تعریفی اسناد اور سووینئر کے موقع پر کیا جس میں ملک بھر سے ماہرین ، آم ،سبزیوں ،اور فروٹ کے ایکسپورٹر، پالیسی ساز ادارے ، Stakeholders، وزارت کے اعلی حکام اور دیگر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے نمائندوں نے بھر پور شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ سیکٹر نے پہلی مرتبہ وزارتِ قومی تحفظِ خوراک و تحقیق کے محکمہ پلانٹ پروٹیکشن اور  PARC کی کارکردگی پر اظہارِ اطمینان کیا۔ آم کی برآمد میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کرنے میں پلانٹ پروٹیکشن کے ادارے اور  PARC کے سائنسدانوں کا مثالی کردار ہے۔ اس سال آم کی بین الاقوامی منڈی میں پاکستان نے اپنا مقام ایک اچھے اور کامیاب ایکسپورٹر کی حیثیت سے حاصل کیا ہے ۔ یورپی یونین میں پاکستان کا ایکسپورٹر کی حیثیت سے اعتماد بحال کرنے کی وجہ سے اگلے سال کے لیے ایڈوانس ڈیمانڈ حاصل کر لی گئی ہے۔ پاکستان میں پلانٹ پروٹیکشن کے ماہرین اور ایکسپورٹرز کے اتحاد و یکجہتی سے کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ پاکستان آم کی برآمد میں اپنے پڑوسی ملک کے مقابلے میں شاندار کامیابی حاصل کر چکا ہے۔ اور ہماری آئندہ بھی کوشش ہو گی کہ باشمول آم کسی بھی برآمدی اشیاء کی کوالٹی کنٹرول پرر سمجھوتہ نہ کیا جائے بلکہ ملک کی خوشحالی اور وقار کے احترام میں بڑے سے بڑے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے عالمی معیار پر پورا اُترنے کی بھر پور کوشش کریں۔ اس موقع پر وفاقی سیکرٹری برائے وزارتِ قومی تحفظ خوراک و تحقیق نے کہا کہ وزارت کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ جب سے موجودہ حکومت نے ہمیں ذمہ داری سونپی ہم نے کم عرصے میں آم کی برآمد کو بین الاقوامی سطح پر ایک مقام حاصل ہوا اور پاکستان پر بین الاقوامی منڈی میں اعتماد بحال ہوا اور وزارت ایکسپورٹرز سے ملکر برآمد کے ہر شعبے میں کوالٹی کو بہتر اور اپنے معیار کو یقینی بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ میری دلی تمنا ہے کہ پاکستان کا ہر گوشہ ایک ایکسپورٹ زون بن جائے۔انکا کہنا تھا کہ TDAP ڈیویلپمنٹ اتھارٹی ایکسپورٹرز کو مزید سہولیات فراہم کریں تا کہ وہ دنیا کی منڈیوں تک با سانی رسائی حاصل کریں، خصوصاً کپاس، چاول ، کنوں اور آم کی بر آمد پر توجہ صرف کریں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن بھی بین الاقوامی معیار کے مطابق سبزیوں کی ایکسپورٹ پروٹوکول پر کام کرے۔ تا کہ سبزیوں میں یورپی یونین کی منڈیوں پر اپنی گرفت مضبوط کریں۔ اور ہمارے ایکسپورٹرز اور ڈی پی پیBitter guard کی بر آمد میں مزید سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔ ایکسپورٹر ، ماہرین اور ذمہ دار اداروں کے تعاون سے پاکستان عالمی منڈی میں آئندہ سال اآم کی برآمد مین سر فہرست ہو گا۔ اس موقع پر ڈاکٹر افتخار احمد، چئیرمین  PARC نے اپنے خطاب میں کہا کہ آم ، سبزیاں، فروٹ اور دیگر فصلات کی برآمد کے لیے کوالٹی کو بڑھانے کے لیے PARC ہر ممکن تعاون جاری رکھے ہوئے ہے اور پہلے ہی سے  72 سائنسدان پلانٹ پروٹیکشن میں اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ PARC کاشتکار کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنی فنی مہارت ہر وقت فراہم کرے گی۔ اور نئی نئی ایجادات اور جدید ٹیکنالوجی کو متعارف کروانے میں مثبت کردار ادا کرے گی۔ اس موقع پر ڈاکٹر مبارک احمد،  DG پلانٹ پروٹیہکشن نے ادارے کی کارکردگی اور آئندہ سال کے اقدامات پر بریفنگ دی اور ایکسپورٹرز ، معاونین، چئیرمین PARC اور وزارت خوراک کا شکریہ اداکیا۔یہ تقریب PFVA ،TDAP، PHDEC،  PARC,PSI Agencies اور پاکستان کسٹمرز کے تعاون سے منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں وفاقی وزیر برائے قومی تحفظ خوراک و تحقیق ، سکندر حیات بوسن ، وفاقی سیکرٹری برائے قومی تحفظ خوراک و تحقیق ، مسٹر سیرت اصغر اور ڈاکٹر افتخار احمد، چئیرمین  PARC  نے اعلی کارکردگی کی بنیاد پر حاضرین میں انعامات اور ایوارڈ تقسیم کیے اور ان کو انکی کامیابیوں پر مبارکباد پیش کی اور اس توقع کا اظہار کیا کہ آپ ایمانداری اور محنت سے پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا عظیم مقصد حاصل کر لینگے۔ ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں ڈاکٹر مبارک احمد، مسٹر اے کیو کے درانی، مسٹر خواجہ طاہر، مسٹر شہزاد وڑائچ، مسٹر جمشید بشیر بھٹی ، مسٹر غلام سرور ابرو، مسٹر فرید خان کاکوانی، مسٹر خواجہ طاہر، عبد المجید نظامانی، امداد نظامانی ، مسٹر وحید الحسن وغیرہ شامل تھے۔ PATCO ، درانی ایسوسی ایٹ ، افتخار احمد اینڈ کو کی طرف سے وفاقی وزیر برائے قومی تحفظ خوراک و تحقیق ، وفاقی سیکرٹری برائے قومی تحفظ خوراک و تحقیق ، مسٹر سیرت اصغر، چئیرمین PARC ڈاکٹر افتخار احمد اور ڈائریکٹر جنرل پلانٹ پروٹیکشن کو شیلڈز ا اور انعامات پیش کیں گئیں۔