Get Adobe Flash player

تھرپارکر میں موت کے سائے برقرار،غذائی قلت سے مزید 4زندگیوں کا خاتمہ

تھرپارکر میں موت کے سائے برقرار، غذائی قلت نے مزید 4 زندگیوں کے چراغ گل کر دیئے۔ مٹھی میں بھی ایک بچہ چل بسا جس کے بعد رواں ماہ ہلاکتوں کی تعداد32ہوگئی جبکہ 350مویشی بھی ہلاک ہو چکے ہیں، چوبیس بچے سول ہسپتال میں زیر علاج ہیں ، جن میں دو کی حالت نازک ہے ، قحط کے مارے ہوئے لوگوں کی نقل مکانی جاری ہے، حکومت کی طرف سے لگائے گئے ، ٹیوب ویل بند اور فلٹر پلانٹس ناکارہ ہو گئے ہیں اور امدادی کارروائیاں سست رفتاری کا شکار ہیں ۔تفصیلات کے مطابق تھرپارکر جہاں کبھی تھر کے باسیوں کی بولیاں گونجتی تھیں، آج سکوت مرگ طاری ہے۔ صحرا میں پھیلی بھوک نے چھاچھرو میں مزید چار زندگیاں نگل لیں۔ مٹھی ہسپتال میں بھی ایک بچہ زندگی سے منہ موڑ گیا۔ چھاچھرو اور ڈاھلی میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا ۔صحرائے تھر میں ایک طرف خشک سالی کا عذاب ہے تو دوسری جانب انتظامیہ کی نااہلی قیامت ڈھا رہی ہے۔ ناکارہ فلٹریشن پلانٹ منصوبہ حکومتی دعوئوں کا منہ چڑا رہا ہے۔ کنویں خشک ہونے سے بھی متاثرین کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ جانیں بچانے کیلئے لوگ گھر بار چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ علاقے میں امدادی کارروائیاں سست رفتاری کا شکار ہیں۔ متاثرہ افراد نے شکوہ کیا ہے کہ مٹھی انتظامیہ نے تین لاکھ منرل واٹر کی بوتلیں ضائع کر دیں، بھوک کے ستائے ہوئے لوگ غذائی بحران اور بچوں کی اموات کے خوف سے نقل مکانی پر مجبور ہیں