سپریم کورٹ،اداروں کے سربراہان کی تقرریاں،حکومت سے تفصیلات طلب

سپریم کورٹ نے کمیشن کے ذریعے ہونے والی اداروں کے سربراہان کی تقرریوں اور خالی پوسٹوں بارے حکومت سے چوبیس گھنٹوں میں تفصیلات طلب کرلیں۔ منگل کو چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے غلام رسول بنام فیڈریشن آف پاکستان کیس کی سماعت کی ۔ اس موقع پر اٹارنی جنرل آف پاکستان عدالت میں پیش ہوئے ۔ چیف جسٹس پاکستان نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ کمیشن کے ذریعے کتنے اداروں میں تقرریاں کی گئی ہیں اور کتنے اداروں کے سربراہان کی تقرریاں نہیں ہوسکی ہیں اس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کچھ اداروں کے سربراہان کی تقرریاں کردی گئی ہیں جو چیک کرکے بتایا جاسکتا ہے اس کے لیے وقت دے دیں جسٹس امیر ہانی مسلم نے پوچھا کہ بتایا جائے کہ مسابقتی کمیشن کی تشکیل کیسے ہوئی اور ممبران میں کون کون شامل ہیں اور کمیشن کس کے حکم پر تشکیل پایا ہے۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ فیڈرل ٹیکس محتسب یہ ایک ممبر ہے شمس لاکھا اور ڈاکٹر اعجاز نبی کمیشن کے ممبر ہیں یہ کمیشن سپریم کورٹ کے خواجہ آصف کیس کی روشنی میں تشکیل پایا ہے اور اس کا نوٹیفکیشن اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن نے جاری کیا تھا۔ اٹارنی جنرل نے آرٹیکل 240اے اور آرٹیکل 242 کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں میں تقرری کا معیار مختلف ہے 240اے کے تحت اتھارٹیز کو تقرریوں کے لیے پروسیجر موجود ہے جس کو فالو کرنا ضروری ہے جبکہ 242 آرٹیکل میں تقرریاں ایف پی ایس سی کے ذریعے کی جاتی ہیں بعد ازاں عدالت نے سماعت آج بدھ تک ملتوی کرتے ہوئے اٹارنی جنرل سے اہم اداروں کے سربراہان کی تقرریوں بارے تفصیلات طلب کی ہیں۔