Get Adobe Flash player

قومی اسمبلی ،سندھ حکومت پر الزامات کیخلاف پیپلز پارٹی کا احتجاج،ایوان میں ہنگامہ آرائی

قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کی طرف سے سندھ حکومت پر بدعنوانی اور لوٹ مار کے الزامات پر پیپلز پارٹی کے شدید احتجاج پر ایوان ہنگامہ آرائی کا شکار ہوگیاجبکہ ڈپٹی سپیکر مرتضی جاوید عباسی نے ایم کیو ایم کے سید آصف حسنین کا مائیک بند کروا کر معاملے کو مزید آگے بڑھنے سے روک دیا۔ منگل کو ایم کیو ایم کے سید آصف حسنین نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ تھر اور مٹھی میں قحط اور بھوک سے بچے مر رہے ہیں، ان لوگوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے، سندھ میں بار بار ایک ہی حکومت آتی ہے جو کام نہیں کررہی، ترقیاتی فنڈز کہاں گئے ہیں؟ سندھ کے وزراء کی کرپشن عام ہے، بچہ بچہ کرپشن اور لوٹ مار کی بات کررہا ہے اور سندھ کی صورتحال بدترین ہے صوبے میں بلدیاتی انتخابات نہیں کروائے گئے، نوے سے زائد شراب کے لائسنس دیئے گئے ہیں جس سے لوگوں کی اموات ہو رہی ہیں، اس پر پیپلز پارٹی کے ارکان نے بیک وقت بولنا شروع کردیا جس سے ایوان ہنگامہ آرائی کا شکار ہوگیا اور کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی، سید آصف حسنین نے کہا کہ جاگیردار اور وڈیرے نئے صوبے نہیں بننے دے رہے ہیں تاہم وہ سن لیں کہ نیا صوبہ ہر صورت بنے گا