Get Adobe Flash player

تحریک انصاف کا پھر یوٹرن،استعفوں پر ڈیڈ لاک،معاملہ الیکشن کمیشن کو بھیجوں گا،اسپیکر کااعلان

تحریک انصاف کا ایک اور یوٹرن ، اراکین کا سپیکر کے سامنے انفرادی طورپر پیش ہونے سے پھر انکار، سپیکر آتے ہی نہیں،تحریک انصاف کا الزام،سارا دن چیمبر میں موجود تھا،سپیکر کا جواب، ایاز صادق نے الیکشن کمیشن کو خط لکھنے کا اعلان کردیا جبکہ دوسری طرف الیکشن کمیشن نے معاملے سے لاتعلقی کا اظہار کردیا ہے ۔تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے الزام عائد کیا ہے کہ اراکین نے اپنے استعفوں کی تصدیق کیلئے ڈھائی گھنٹے سے زائد تک سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے چیمبر میں ان کا انتظار کیا لیکن وہ نہیں آئے جس پر وہ وہاں سے اٹھ کر چلے گئے۔ بعد ازاں پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ سپیکر قومی اسمبلی نے بذریعہ خط استعفوں کی تصدیق کی دعوت دی تھی۔ ہم آج مقررہ وقت پر سپیکر کے چیمبر میں پیش ہوئے لیکن انہوں نے استعفوں کی تصدیق کیلئے ہم سے ملاقات نہیں کی اور نہ ہی ہمیں اس سلسلے میں کوئی جواب دیا گیا۔ تاہم تحریک انصاف کے ایک ایک رکن نے ڈپٹی سپیکر اور عملے کے سامنے اپنے استعفوں کی تصدیق کر دی ہے۔ تحریک انصاف کے اراکین نے الگ الگ ملاقات کی پیشکش بھی کی تھی لیکن اس پر بھی کوئی غور نہیں کیا گیا۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما نے الزام عائد کیا کہ جمہوریت کا راگ الاپنے والی حکومت نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا۔ چھانگا مانگا کی پرانی روایت کو دہرانے کی کوشش کی اور ہارس ٹریڈنگ کی کوشش کی گئی۔ حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے اراکین کو پیسوں اور وزارتوں کی بھی پیشکش کی گئی تھی۔ جمہوریت کے علمبرداروں نے جمہوریت کے ساتھ مذاق کیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا پہلے دن سے موقف تھا کہ الیکشن 2013 میں عوام کا مینڈیٹ چرایا گیا۔ ہمیں کہیں سے انصاف نہیں ملا تو عوام سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان عوام کا مقدمہ لڑ رہے ہیں۔ جعلی مینڈیٹ کا ڈٹ کر مقابلہ کرینگے۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا پاکستان تحریک انصاف کے ممبران کے استعفوں کے معاملے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کو خط لکھنے کا فیصلہ' بدھ کو پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ میں کوئی حکومت کانمائندہ نہیں اور نہ ہی مجھے عہدہ کسی پارٹی کی طرف داری کی اجازت دیتا ہے پاکستان تحریک انصاف کے ممبران کے استعفوں کی تصدیق کا معاملہ آئین اور قواعد و ضوابط کے مطابق کروں گا کسی کی خواہش یا منشا پر یہ معاملہ ختم نہیں کر سکتے انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط نمبر 43 کے مطابق کریں گے' انہوں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی سے استعفوں کی تصدیق کے بارے میں انہیں برملا کہا تھا کہ ممبران کے استعفوں کی تصدیق فرداً فرداً ہوگی اجتماعی طور پر نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ممبران نے صبح گیارہ بجے آنا تھا لیکن وہ دو بجے کے قریب آئے۔ اور فرداً فرداً استعفوں کی تصدیق کیلئے پی ٹی آئی نے انکار کردیا ہے اور الیکشن کمیشن کو اس حوالے سے خط لکھیں گے کہ ہم نے دو مرحلے استعفوں کی تصدیق کے حوالے سے کئے ہیں اور تحریک انصاف کے ممبران فرداً فرداً استعفوں کی تصدیق نہیں کرنا چاہتے انہوں نے کہا کہ میں نے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کی ڈیوٹی لگائی کہ ان کے استعفوں کی تصدیق کریں لیکن انہوں نے استعفوں کی تصدیق نہیں کرائی اس موقع پر ڈپٹی سپیکر مرتضے جاوید عباسی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ممبران نے اگر استعفے ہی دینے ہیں یا دیئے ہیں تو اتنا عرصہ سرکاری وسائل کیوں استعمال کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دراصل پی ٹی آئی کے ممبران اپنی رکنیت سے استعفے ہی نہیں دینا چاہتے۔الیکشن کمیشن کے مطابق الیکشن کمیشن کا استعفے منطور کرنے یا نہ کرنے سے کوئی تعلق نہیں اور الیکشن کمیشن کا پاکستان تحریک انصاف کے ارکان کے استعفے منظور کرنے میں کوئی کردار نہیں ہے اگر کوئی ممبر استعفی دے تو اس کی کاپی الیکشن کمیشن کو بھجوائی جاتی ہے۔ حکام کے مطابق سردار ایاز صادق کی معاملے پر الیکشن کمیشن کو خط لکھنے کی وجہ سمجھ نہیں آئی صرف استعفی منظور کرنے کی صورت میں ہی اسپیکر الیکشن کمیشن کو آگاہ کر سکتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کا کام صرف استعفے کے بعد نشست کو خالی قرار دینا اور ضمنی انتخابات کرانا ہے۔