تھر ہلاکتیں ،'ن'لیگ اور پی پی کی مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ انتہائی شرمناک ہے،عمران خان

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے تھر میں خشک سالی اور غذا کی قلت سے بڑے پیمانے پر خواتین اور بچوں کی ہلاکتوں پر غفلت کا مظاہرہ کرنے اور ان کی روک تھام میں عدم دلچسپی کا اظہار کرنے پر وفاقی و سندھ حکومتوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور حکومتی طرز عمل کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تھر میں خشک سالی، قحط اور غذائی قلت کے نتیجے میں ضائع ہونے والی زندگیاں بچانا ممکن ہے، تاہم مسلم لیگ نواز اور پیپلر پارٹی کی وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ انتہائی شرمناک اور قابل مذمت ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ بچوں کو خوراک فراہم کرنے میں ناکامی کی وجہ سے علاقے میں انتہائی مایوسی اور صدمے کے باعث خودکشی کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوچکا ہے کیونکہ 2011میں 24افراد نے خود کی جان لی اور 2012میں 35لوگوں نے خود کشی کی جبکہ گزشتہ 7ماہ میں صرف تھرپارکر ضلع میں 31لوگ اپنی جانیں ضائع کر چکے ہیں۔ اسلام آباد سے جاری بیان میں ان کا کہنا ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے اگست کے وسط تک بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے علاقے میں خشک سالی کے تمام تر آثار کے باوجود اس سے پیدا ہونے والی ممکنہ صورت حال کے احساس میں ناکامی بالکل بلاجواز اور شرمناک ہے۔ چیئرمین تحریک انصاف کے مطابق خوراک سمیت دیگر بنیادی سہولیات کی عوام کیلئے فراہمی حکومتوں کی ترجیحات میں سرفہرست ہونا چاہیے، جبکہ تھرپارکر کے عوام خصوصاً بچوں کیلئے خوراک کی فراہمی اور بیماریوں سے بچائو کیلئے کچھ بھی موجود نہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ حکومتوں کی معاملے سے مکمل لاعلمی سے خشک سالی سے پیدا شدہ صورت حال کی شدت میں اضافہ ہواپنے بیان میں مشہور سماجی کارکن اور حصار فائونڈیشن کے سربراہ ڈاکٹر سونو کنجھرانی کے بیان کا ذکر کرتے ہوئے تحریک انصاف کے چیئرمین نے کہا تھرپارکر میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیچھے غربت کارفرماہے اور خشک سالی سے ان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ برس پیش آنے والی خشک سالی 1974ارو 1986کے قحط سے بھی بدتر ہے