Get Adobe Flash player

انتخابی عمل پر اعتراضات مسترد، سپریم کورٹ میں عمران خان کی اپنی ہی وکٹ گر گئی،دھرناختم ہونا چاہیے،پرویزرشید

وفاقی وزیراطلاعات ونشریات سینیٹر پرویزرشید نے کہا ہے کہ عمران خان کی سپریم کورٹ میں اپنی ہی وکٹ گر گئی ،کھلاڑی سچا کھیل کھیل رہا ہے نہ ہی امپائر کے سامنے کھیل پیش کرنے کے قابل رہ گیا،تحریک انصاف ملکی ترقی میںرخنے ڈالنا بند کرے ،ناکامی کااعتراف کرتے ہوئے دھرنا چھوڑ کر قومی اسمبلی میں اپنا کردار ادا کریں ، ہمارا ضمیر مطمئن اور دل صاف ہے ،عمران خان جس بات کوسڑکوں اور سپریم کورٹ میں ثابت نہیں کرسکے مذاکرات کی میز پرانہیں مطمئن کرینگے، آئین کی حدود میں ان کے مطالبات کا تسلی بخش جواب دینگے، نوازشریف، ان کی جماعت، جمہوریت ، انتحابی عمل اورہماری ذات سے متعلق جو الزامات لگائے ہم انہیں اللہ کی عدالت میں چھوڑتے ہیں ہم ان الزامات پر کوئی گلہ شکوہ نہیں کرتے،حکومت نجکاری نہیں شراکت داری کررہی ہے۔جمعرات کو پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سینیٹر پرویز رشید نے کہاکہ عمران خان کی سپریم کورٹ میں اپنی ہی وکٹ گر گئی عمران خان کی اپنی وکٹ ہی ان کی نو بال کاشکارہوگئی عمران خان کو امپائرکی انگلی کھڑی کراکرہمیں باہرنکالنے کاموقع ملاتھا الزامات کے ساتھ کوئی شواہد یادستاویزات موجود نہیں تھے عمران خان پٹشنر کے ساتھ خود عدالت میں پیش ہوجاتے اور ان الزامات کو ثابت کرتے جو وہ گزشتہ کئی ماہ سے کنٹینر پر کھڑے ہوکر لگارہے ہیں انہوں نے کہاکہ ہمیں گمان تھا کہ عمران خان سپریم کورٹ میں اردو بازار سے چھپے ہوئے بیلٹ پیپر پیش کرینگے جس کی بنیاد پر وہ کہتے ہیں کہ انتخابات میں ناانصافی ہوئی سپریم کورٹ کے سامنے ثابت کرینگے کہ کیسے ریٹرننگ افسران نے عمران کے انتخابات کو ناکام کیا اوریہ بھی بتائیں گے کہ میاں نوازشریف کی تقریر کیسے انتخابات پراثر انداز ہوئی ہمیں گمان تھا کہ وہ یہ بھی بتائیں گے کہ نگران وزیراعلیٰ پنجاب نجم سیٹھی نے کونسا کردار ادا کیا اورکیسے چیف جسٹس افتخار چودھری نے انتخابات کو متاثر کیا نہ ہی پٹشنر عدالت عالیہ کے سامنے اپنے الزامات کو درست ثابت کرسکا اورنہ عمران خان کو جرات ہوئی کہ وہ کنٹینر سے اتر کراور جتنا بائولنگ کراتے وقت رن اپ لیتے تھے اتنے فاصلے پرموجود سپریم کورٹ میں امپائر کے سامنے پیش ہوتے انہوں نے کہاکہ اس کامطلب ہے کہ کھلاڑی سچا کھیل کھیل نہیں رہانہ ہی اس میں صلاحیت ہے یا وہ کھلاڑی امپائر کے سامنے کھیل پیش کرنے کے قابل نہیں رہ گیا وہ عدالت عالیہ کی بجائے صرف خالی کرسیوں کے سامنے اپنامقدمہ پیش کررہا ہے انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد عمران خان دھرنا ختم کردیں انہیں سنہری موقع ملاتھا کہ سپریم کورٹ میں الزامات کو ثابت کرتے لیکن ان کو ناکامی ہوئی وہ اپنی ناکامی کااعتراف کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں واپس آجائیں جس عوام سے وہ سچ بولنے اور ان کے ساتھ مخلص ہونے کادعویٰ کرتے ہیں اورجنہوں نے انہیں منتخب کیا ہے ان کے اخلاص کو قبول کریں اور پارلیمنٹ میں واپس آکراپناکردار شروع کریں انہوں نے کہاکہ ہم سپریم کورٹ کو تسلیم کرتے ہیں عمران خان نے اسی آئین کاحلف اٹھایا ہے جس کی وہ پاسداری بھی کریں آئین کے مطابق جو ادارے شکایات سنتے ہیں وہاں جاتے ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ عمران خان لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں حقائق کے برعکس الزامات لگاتے ہیں سپریم کورٹ میں ان کامقدمہ ناکام ہوا انہوں نے کہاکہ حکومت مذاکرات کے دروازے کھلے رکھتی ہے مذاکرات سے گریز نہیں کرتے ہمارا ضمیر مطمئن اور دل صاف ہے ہمیں یقین ہے کہ وہ جس بات کوسڑکوں اور سپریم کورٹ میں ثابت نہیں کرسکے مذاکرات کی میز پرہم انہیں مطمئن کرینگے اور آئین کی حدود میں ان کے مطالبات کا تسلی بخش جواب دینگے ہمارے دل بھی کھلے ہیں اور مذاکرات کے دروازے بھی کھلے ہیں پرویز رشید نے کہاکہ عمران خان نے میاں نوازشریف، ان کی جماعت، جمہوریت ، انتحابی عمل اورہماری ذات سے متعلق جو الزامات لگائے ہم انہیں اللہ کی عدالت میں چھوڑتے ہیں ہم ان الزامات پر کوئی گلہ شکوہ نہیں کرتے 14اگست سے پہلے پاکستان کو جو کامیابیاں ملی تھیں ان میں رخنہ ڈالا اب رخنا ڈالنا بند کریں اور پاکستان کو کامیابیاں دلانے میں اپنا کردار ادا کریں ہماری سرحدوں پرکشیدگی اورملک کوتوانائی بحران سے باہرنکالنے کی کوششوں کاحصہ بنیں ہم پر تنقید کریں اپوزیشن اور حکومت ملکرقوم کی خدمت کرے تحریک انصاف اس فرائض کو انجام دے انہوں نے کہاکہ عمران بھیانک اورناخوشگوار خواب سمجھتے ہوئے حقائق کی زندگی میں واپس آجائیں اورخواب دیکھنا بند کریں انہوں نے کہاکہ عمران خان نے جو باتیں کیں ہم نے معاف کیا ملتان میں تحریک انصاف کو تیس ہزار کم ووٹ ملے 2013ء کے انتخابات میں 48 فیصد عوام نکلے جب پاکستان جاگا تو صرف 29 فیصد لوگ آئے انہوں نے کہاکہ عوام سیاست میں ووٹ کے ذریعے احتساب کرتے ہیں ایک اور سوال پر انہوں نے کہاکہ وفاقی کابینہ میں رد وبدل وزیراعظم کی صوابدید ہے نجکاری کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ حکومت نے نجکاری کا کوئی عمل شروع نہیں کیا جو شروع کیاگیا ہے وہ شراکت داری ہے ان اداروں کی ترقی کیلئے سرمایہ درکار ہے پی آئی اے اورسٹیل مل ہرچھ ماہ بعد کہتے ہیں کہ تنخواہ کیلئے پیسے نہیں پھر حکومت کووہ پیسہ دینا پڑتا ہے ہم ان اداروں کی صحت کو بہتر بنانے کیلئے شراکت دار تلاش کررہے ہیں تاکہ ادارے مضبوط ہوں روزگارکے مواقع پیدا ہوں اوریہ ادارے ترقی کریں ہمیں اچھے ساتھیوں کی تلاش ہے ان اداروں میں مزید سرمایہ کاری نہیں کی جاسکتی او جی ڈی سی ایل بھی پی آئی اے اور سٹیل مل جیسی شکل اختیار کرلے گا اکثریتی شیئرحکومت پاکستان کے پاس ہونگے انہوں نے کہاکہ پندرہ اگست سے پہلے جو صورتحال تھی آج اس سے بہتر ہے ہم اس کو مزید بہتربناناچاہتے ہیں حکومت نے اپنے معمول کاکام نہیں روکا ہماری کوشش ہے کہ موجودہ صورتحال بھی جلدازجلد بہتر ہو انہوں نے کہاکہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل ہوگا جرمانے کے معاملے پر باہمی گفتگو سے مسئلے کو حل کیاجائیگاایران ہمارا ہمسایہ ہے اور ایران کے ساتھ بات چیت دو بھائیوں کے درمیان ہوگی انہوں نے کہاکہ ہماری سرحدوں کی ایک انچ بھی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی افواج پاکستان کی پوری نظر ہے اوروہ ایک ایک انچ کادفاع کرتی ہے اورکرتی رہیں گی انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ ن نے جتنے ا قتصادی اقدامات اٹھائے اس کا پاکستان کو فائدہ ہوا ہماری اصلاحات کے نتیجے میں خسارے میں چلنے والے بنک اب اربوں کاٹیکس دیتے ہیں ہمارا یہ تجربہ کامیاب رہا ہم اس ملک کو جدید بنائیں گے ا وراب جو پروگرام بنایاہے اس پرعملدرآمد ہوگا تو ملکی ادارے دہائیوں کی بجائے سالوں میں ترقی کرینگے۔