Get Adobe Flash player

بیورو کریسی کسی بھی حکومت کے غلط احکامات پر عمل کرنے سے انکار کردے، ممنون حسین

صدر مملکت ممنون حسین نے بیوروکریسی کو ہدایت کی ہے کہ حکومت کوئی بھی ہو،وہ کسی بھی نوعیت کے غیر قانونی حکم کو ماننے سے انکار کردے لیکن یہ خیال رکھیں کہ تصادم اور بدمزگی کی صورت حال کسی بھی صورت میں پیدا نہ ہو۔وہ جمعرات کو یہاں ایوان صدر میں101 ویں نیشنل مینجمنٹ کورس کے شرکاء سے خطاب کررہے تھے ۔ اس موقع پر انھوں نے کورس کے شرکاء کے سوالوں کے جواب بھی دیے۔صدر مملکت نے کہا کہ یہ ہماری قومی بدقسمتی رہی ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں تنزل اور انحطاط پیدا ہوا ہے جس سے بیورو کریسی بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکی لیکن یہ امر باعث اطمینان ہے کہ قوم اپنے تمام تر مسائل کے باوجود اپنے بہترین وسائل بیوروکریسی پر خرچ کرتی ہے اور اسے معاشرے میں دستیاب بہترین سہولتیں بھی فراہم کرتی ہے اس کے جواب میں اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایسی کارکردگی کا مظاہرہ کرے جس کے نتیجے میں عوامی مسائل کا خاتمہ ہو اور حکومت کی کارکردگی میں بہتری آئے۔صدر مملکت نے شرکاء کو مشورہ دیا کہ وہ اس کورس کے اختتام پر خود احتسابی سے کام لیتے ہوئے یہ جائزہ لیں کہ اس تربیت کے بعد ان کے روّیوں میں کیا تبدیلی رونما ہوئی ہے۔انھوںنے کہا کہ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ بیوروکریسی کی بہترکارکردگی کے نتیجے میں ہی قوم کی خوشحالی یقینی بنائی جاسکتی ہے۔انھوں نے کہا اگر ملک میں پیدا ہونے والے انتظامی مسائل کو بروقت حل نہ کیا جائے تو وہ سیاسی نوعیت اختیارکرجاتے ہیں ۔تاریخ بتاتی ہے کہ اسی طرح کی صورت حال میں ملک غیر مستحکم ہی نہیں ہوتے بلکہ ٹوٹ بھی جاتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اس لیے ضروری ہے کہ بیوروکریسی ایک تربیت یافتہ انتظامیہ کی حیثیت سے عوامی مسائل کے حل کے عمل میں تیزی پیدا کرے اورخود کو مضبوط بناتے ہوئے کسی بھی حکومت کے کسی غیر قانونی حکم کو تسلیم کرنے سے انکار کردے لیکن اس عمل میں شدت اور تلخی سے بچنے کی پوری کوشش کی جائے تاکہ تصادم کی صورت حال کسی بھی صورت میں پیدا نہ ہوصدر مملکت نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ بلوچستان کے مسائل کی بنیادی وجہ احساس محرومی ہے جس کی ذمہ دار ماضی کی حکومتیں بھی رہی لیکن ان کے ساتھ ساتھ وہاں کے قبائلی سرداروں کو بھی اس سے بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔انھوں نے کہا کہ یہ بڑے دکھ کی بات ہے کہ بلوچستان کی ترقی کے لیے عوامی نمائندوں کو جو فنڈ فراہم کیے جاتے رہے ہیں، انھیں عوام پر خرچ کرنے کی بجائے خرد برد کردیا جاتا رہا ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ اکبر بگٹی کے قتل سے ملک کے استحکام اور یک جہتی کو سخت نقصان پہنچا ۔انھوں نے کہا کہ اس صورت حال کی ایک وجہ عدم برداشت بھی ہے حالانکہ ملک میں جو جتنا زیادہ طاقت ور اور ذمہ دار ہو،اسے چاہئے کہ وہ اتنی ہی برداشت اور محبت سے کام لے ۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے بلوچستان میں اپنی جماعت کی اکثریت ہونے کے باوجود وہاں قوم پرست جماعتوں کی حکومت قائم کی ۔ حکومت کے اس جذبے کی پورے ملک میں تعریف کی گئی۔