احتجاج کی آڑ میں فساد کی اجازت نہیں دے سکتے،مزدوروں کا تحفظ یقینی بنائینگے، چوہدری نثار

قومی اسمبلی میں اوجی ڈی سی ایل ملازمین پر اسلام آباد پولیس کے لاٹھی چارج پر اپوزیشن کا ایوان سے واک آئوٹ،چودھری نثار کے بیان پر پیپلزپارٹی بپھر گئی، کارروائی کا بائیکاٹ کرتے ہوئے مزدوروں کے حقوق کیلئے حکمران جماعت سے عدم تعاون کی دھمکی بھی دے ڈالی ، سید خورشید شاہ نے کہاہے کہ دو ماہ سے زائد دھرنا دینے والوں کو حکومت کچھ نہیں کہتی، ہمت ہے تو تحریک انصاف کے دھرنے پر پولیس رٹ کرکے دکھائے، سکھ پارلیمنٹ کے اندر گھس جاتے ہیں مگر کوئی کارروائی نہیں ہوتی، نااہل وزراء کی وجہ سے وزیراعظم مشکل صورتحال کا شکار ہیں ، اپوزیشن اور صوبوں کی مشاورت کے بغیر نجکاری نہیں کرنے دینگے جبکہ چودھری نثار علی خان نے کہاہے کہ کارکنوں پر لاٹھی چارج کے دوران انتظامیہ نے حد سے تجاوز کرکے پھرتیاں دکھائیں، معاملے کی انکوائری کیلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دیدی، رپورٹ ایوان میں پیش کرینگے، احتجاج کی آڑ میں فساد کی اجازت نہیں دی جاسکتی، مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کرینگے ،یقین دلاتا ہوں نجکاری کا اثر مزدوروں پر نہیں پڑیگا''جمشید دستی کا بھی پارلیمنٹ میں دھرنا'' آنسو گیس کے باعث بے ہوش پڑا رہا، حکومت ظلم بند کرے، سپیکر ڈائس کے سامنے مظفر گڑھ کے رکن قومی اسمبلی کی دہائی۔جمعرات کے روز قومی اسمبلی میں معمول کی کارروائی جاری تھی اور وزیر مملکت برائے کیڈ سائرہ افضل تارڑ ایک توجہ دلائو نوٹس پر جواب دے رہی تھیں جیسے ہی انہوںنے اپنی بات مکمل کی تو قائد حزب اختلاف سید خورشیدشاہ نکتہ اعتراض پر اپنی نشست پر کھڑے ہوگئے اس موقع پر انہوںنے کہاکہ پیپلزپارٹی عوامی حقوق پر یقین رکھتی ہے ۔ جمہوریت پر بات تو کی جاتی ہے مگر عمل نہیں کیا جاتا ہمارے سامنے مزدوروں کی بہت اہمیت ہے۔ انہوںنے گزشتہ روز اسلام آباد پولیس کی جانب سے اوجی ڈی سی ایل ملازمین پر ہونے والے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ او جی ڈی سی ایل کی نجکاری ظلم ہے اوجی ڈی سی ایل 135ارب روپے سالانہ منافع کماتاہیغ حکومت بجٹ خسارہ کم کرنے کیلئے منافع بخش اداروں کی نجکاری کررہی ہے مزدوروں اور محنت کشوں کا مستقبل دائو پر لگ گیاہے۔