Get Adobe Flash player

جماعت اسلامی کا مولانا مطیع الرحمان کی سزائے موت کیخلاف ملک گیر احتجاج،جلسے جلوس،ریلیاں،بنگلہ دیش فیصلہ واپس لے،مقررین

 امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کی اپیل پر بنگلہ دیش میں امیر جماعت اسلامی مطیع الرحمن نظامی کو سزائے موت سنائے جانے کے خلاف ملک گیر یوم احتجاج منایا گیا ۔نماز جمعہ کے بعد وفاقی و صوبائی دارالحکومتوں سمیت ملک کے چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں میں احتجاجی جلسے جلوس اور ریلیاں نکالی گئیں جن میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔علماء اور خطیب حضرات نے جمعہ کے خطبات میں جماعت اسلامی کے رہنمائوں پربنگلا دیشی حکومت کے مظالم کی شدید مذمت کی ۔لاہور میں نماز جمعہ کے بعد ملتان روڈ پر بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس کی قیادت نائب امرا جماعت اسلامی حافظ محمد ادریس ،اسداللہ بھٹو ،ڈپٹی سیکریٹری جنرل ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ،جمعیت اتحاد العلماء پاکستان کے سربراہ مولانا عبدالمالک ،نائب امیر جماعت اسلامی پنجاب اظہر اقبال حسن اورامیر جماعت اسلامی لاہور میاں مقصود احمد، عبدالحفیظ احمد ، ذکر اللہ مجاہد ، عبدالعزیز عابد و دیگر قائدین نے کی ۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ 71کی جنگ کے بعد بھٹو اور مجیب الرحمن کے درمیان ہونے والے معاہدے جس کو امریکہ و برطانیہ سمیت کئی ممالک نے تسلیم کیا تھا اسے اقوام متحدہ میں پیش کیا جائے جس کے مطابق دونوں ممالک میں طے پایا تھا کہ بنگلا دیش کے الگ ملک کی حیثیت سے قیام کے بعد اب دونوں ممالک تمام قیدیوں کو رہا کردیں گے اور کسی کو جنگی جرائم کی سزا دی جائے گی نہ آئندہ مجرم ٹھہرایا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ بنگلادیش اس معاہدے کی سراسر خلاف ورزی کررہا ہے اور جماعت اسلامی کے رہنمائوں کو پاکستان سے محبت کی سزا دی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے پاکستان کو دولخت کرنے کی بھارتی سازشوں کا ناکام بنانے کیلئے جو قربانیاں دیں وہ پاکستانی آئین کا تقاضا تھا ،اس وقت بنگلا دیش چونکہ مشرقی پاکستان تھا اسلئے جماعت اسلامی کے رہنمائوں پر بنگلا دیشی آئین کی خلاف ورزی کے الزامات بے معنی اور لغو ہیں ، حافظ محمد ادریس نے کہا کہ بھارتی فوج کے مقابلے میں پروفیسر غلام اعظم ،مولانا مطیع الرحمن نظامی ،عبدالقادر ملا سمیت جماعت اسلامی کی قیادت نے اگر پاکستانی فوج کا ساتھ دیا تھا تو اب پاکستانی فوج اور حکومت کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے ان محسنوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھائیں ،انہوں نے کہا کہ عالمی ضمیر اور انسانی حقوق کے نام نہاد ادارے سو ئے ہوئے ہیں جنہیں معصوم اور بے گناہ شہریوں کے خلاف بنگلا دیش کی ریاستی دہشت گردی نظر نہیں آرہی ۔مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے اسد اللہ بھٹو نے کہا کہ چار دہائیاں قبل 1970میں پیش آنے والے واقعہ کو بنیاد بنا کر 90,90سال کے بزرگوں کو جیلوں میں بند کرنا اور پھانسیوں پر لٹکانا انسانیت کے خلاف جرائم ہیں ،انہوں نے کہا کہ دراصل عالمی استعمار اسلام کا راستہ روکنے کیلئے دنیا بھر میںاسلامی قیادت کو نشانہ بنا رہاہے ،لیکن اسے ذہن میں رکھنا چاہئے کہ اسلام آج تک کسی فرعون کے دبانے سے دبا نہیں بلکہ یہ مزید طاقت سے ابھرا ہے ۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے کہا کہ بنگلادیشی قید میں شہید ہونے والے پروفیسر غلام اعظم کی غائبانہ نماز جنازہ بیت اللہ اور مسجد نبوی سمیت دنیا بھر میں ادا کی گئی جس میں ہر جگہ لاکھوں لوگ غائبانہ نماز جنازہ میں شریک ہوئے ،خود بنگلا دیش کی تاریخ میں سب سے بڑا جنازہ پروفیسر غلام اعظم کا ہوا جبکہ حسینہ واجد کے غدار باپ کو چارپائی اٹھانے کیلئے چار افراد نہ مل سکے ،انہوں نے کہا کہ حسینہ واجد کا انجام اس کے باپ سے بھی زیادہ عبرت ناک ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حسینہ واجد بھارتی ایماء پر جماعت اسلامی کے رہنمائوں کو سزائیں دے کر پاگل پن کا مظاہرہ کررہی ہے ،بنگلادیش کے عوام نے جس طرح اس کے باپ کا ساتھ نہیں دیا تھا اسی طرح جب وقت پڑا تو حسینہ کیلئے کسی دل میں ترس نہیں آئے گا۔انہوں نے افواج پاکستان سے گلہ کیا کہ کیا اپنے دوستوںکو ملنے والی پھانسیوں پر کوئی اس طرح بھی خاموش رہتا ہے ،انہوں نے کہا کہ اگر حکومت پاکستان نے خاموشی نہ توڑی تو عوام انہیں بھی بھارتی سازشوں کا حصہ دار سمجھنے پر مجبور ہونگے ۔مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی لاہور میاں مقصود احمد نے کہا کہ عبد القادر ملا ،پروفیسر غلام اعظم اور اب مطیع الرحمن نظامی اس نظریے کی زندہ تصویر ہیں جو قیام پاکستان کی بنیاد بنا ،انہوں نے کہا کہ عالمی استعمار اس نظریے کو ختم کرنا چاہتا ہے تاکہ اسلام کے بڑھتے قدموں کو روکا جاسکے ،انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت اور فوج کو سمجھ لینا چاہئے کہ قومیں اپنے نظریات پر زندہ رہتی ہیں اور جو قوم اپنے نظریے کو بھول جاتی ہے دنیا کی تاریخ میں اس کی زندگی کے آثار نہیں ملتے ،انہوں نے کہا کہ نظریہ نہیں ہوگا تو جغرافیہ بھی نہیں ہوگا ،پاکستان کا بجٹ کھانے والے سوچ لیں کہ اگر نظریہ نہ رہا تو پاکستان بھی نہیں بچے گا۔احتجاجی مظاہرے میں ہزاروں لوگوں نے بھارت اور حسینہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی ،مظاہرین نے کتبے اور بینر ز اٹھا رکھے تھے جن پر بنگلادیشی حکومت کو ظلم و جبر بند کرنے عالمی برادری کو اس ظلم کو رکوانے کی اپیل کی گئی تھی ۔وہاڑی میں بڑے احتجاجی مظاہرے کی قیادت جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کی ۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کاکہاکہ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنمائوں کو اسلام ، امت سے محبت اور بھارت کی بالادستی سے انکار کی سزا دی جارہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ عبدالقادر ملا کو پھانسی پرچڑھایا گیا ۔ پروفیسر غلام اعظم پیرانہ سالی میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے شہید کر دیے گئے اب امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش مولانا مطیع الرحمن نظامی کو نا م نہاد ٹریبونل نے پھانسی کی سزا سنا دی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بنگلہ دیش میں جمہوریت ، انسانیت اور تمام اخلاقی اقدار کو قتل کیا جارہاہے ، بدقسمتی یہ ہے کہ عالم اسلام اور عالمی ادارے انصاف کے نام پر انسانوں کے قتل عام پر خاموش اور بے حس ہیں ۔انہوں نے کہاکہ عالمی برادری بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد کو جماعت اسلامی پر مظالم سے روکے اور شیخ مجیب الرحمن ، اندراگاندھی اور بھٹو کے درمیان ہونے والے معاہدے کی پابندی کروائے ۔ انہوں نے کہاکہ بنگلہ دیش حکومت کو یکطرفہ طور پر سہ فریقی معاہدہ ختم کرنے کا حق نہیں ،انہوں نے مطالبہ کیا بنگلہ دیشی حکومت مطیع الرحمن نظامی کی سزائے موت ختم کرے اور تمام رہنمائوں و کارکنوں کو جیلوں سے رہا کیا جائے۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کی اپیل پر پنجاب کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں بھی مولانا مطیع الرحمن نظا می کو سنائی جانے والی سزائے موت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے ،امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر سید وسیم اختر نے بہاولپور میںاور سیکریٹری جنرل پنجاب نذیر احمد جنجوعہ نے ملتان میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی قیادت کی ۔