Get Adobe Flash player

قومی اسمبلی ،متحدہ اپوزیشن کا او جی ڈی سی ایل کی نجکاری و تشدد کیخلاف احتجاج جاری،واک آئوٹ

 قومی اسمبلی کے اجلاس میں متحدہ اپوزیشن نے او جی ڈی سی ایل سمیت دیگر اداروں کی نجکاری، او جی ڈی سی ایل ملازمین پر پولیس کے تشدد کے خلاف دوسرے روز بھی احتجاج اور واک آئوٹ کیا، جماعت اسلامی، اے این پی بھی دوسرے روز احتجاج اور واک آئوٹ میں شامل ہو گئے، اپوزیشن ارکان نے کہا کہ قومی اداروں کی نجکاری نہیں ہونے دیں گے، اقتدار میں آ کر تمام سیاستدان عوام سے کئے گئے وعدے بھول جاتے ہیں، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اپنے رویہ میں تبدیلی لائیں، جس طرح سے پر امن مظاہرین پر تشدد کیا گیا وہ شرم ناک ہے، وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور شیخ آفتاب نے ایوان کو بتایا کہ حکومت او جی ڈی سی ایل کی نجکاری نہیں کر رہی ، کسی مزدور کو نہیں نکالا جائے گا، او جی ڈی سی ایل ملازمین پر پولیس تشدد کی انکوائری ہو رہی ہے، خلاف قانون کارروائی کرنے والے افسران کے خلاف کاررائی کریں گے، اپوزیشن ملکی ترقی کیلئے کردار ادا کرے۔ جمعہ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری، عوامی نیشنل پارٹی کے غلام احمد بلور اور جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ نے نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کیا۔ پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے کہا کہ او جی ڈی سی ایل منافع بخش ادارہ ہے جس کی نجکاری کسی صورت قبول نہیں کریں گے، او جی ڈی سی ایل کے ملازمین اپنے حقوق کیلئے پر امن احتجاج کر رہے تھے، لیکن پولیس نے ان پر بہیمانہ تشدد کیا جو انتہائی قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ قائد حزب اختلاف نے گزشتہ روز احتجاجی ایران سے واک آئوٹ کیا آج بھی ہم ایوان سے واک آئوٹ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ اپنے اپنے رویہ میں تبدیلی لائیں۔ جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ او جی ڈی سی ایل کی نجکاری اور ملازمین پر تشدد قابل مذمت ہے، ایوان کا واک آئوٹ کرتے ہیں۔ اے این پی کے پارلیمانی لیڈر غلام احمد بلور نے کہا کہ عام انتخابات میں تمام سیاستدان عوام سے کئے وعدے بھول گئے ہیں پہلے تو غریب کی باتیں کرتے تھے لیکن اقتدار میں آتے ہی وہ سب بھول گئے ہیں، مزدوروں پر ظلم، زیادتی اور تشدد کی مذمت کرتے ہیں، حکومت فوری طور پر گرفتار ملازمین کو رہا کرے۔ انہوں نے کہا کہ منافع بخش اداروں کی نجکاری نہیں ہونے دیں گے۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور شیخ آفتاب نے نکتہ اعتراضات کے جواب میں ایوان کو آگاہ کیا کہ حکومت او جی ڈی سی ایل کی نجکاری نہیں کر رہی اور کسی بھی مزدور کو نہیں نکالا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی پولیس اہلکار نے قانون توڑا یا ہاتھ میں لیا ہو گا تو اس کے خلاف کارروائی ہو گی اور اس حوالے سے اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں پر لاٹھی چارج ڈی ایس پی پر تشدد کی وجہ سے ہوا ہے، اپوزیشن چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض ہونا چھوڑ دے اور حکومت کا ملکی ترقی کیلئے ساتھ دے۔