Get Adobe Flash player

کال کوٹھری میں عمر قید گزارنے والے ملزم کو پھانسی نہیں دی جا سکتی،سپریم کورٹ

سپریم کورٹ میں اکرم بنام اسرار کے قتل کے مقدمے میں پانچ رکنی شریعت ایپلٹ بنچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل خان نے ریمارکس دیئے ہیںکہ سپریم کورٹ کا قانون ہے کہ پھانسی کی کال کوٹھری میں عمر قید گزارنے والے قتل کے مجرم کو پھانسی نہیں دی جاسکتی جبکہ جسٹس دوست محمد خان نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ملزمان پر جرح ارٹ جو عام آدمی نہیں جانتا اگر ملزم شریک ملزم کے سامنے جرم سے انکار کردے تو اس پر جرح ضروری ہوجاتی ہے انہوں نے یہ ریمارکس جمعرات کے روز دیئے ہیں سماعت شروع ہوئی تو ملزم اکرم کے والد پیش ہوئے اور انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ان کے بیٹے کو پھانسی کی کوٹھری میں بند ہوئے سترہ سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے وہ اپنا وکیل کرنا چاہتے ہیں اس لیے مہلت دی جائے اس پر جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ سپریم کورٹ کا قانون ہے کہ پھانسی کی کال کوٹھری میں عمر قید گزارنے والے ملزم کو پھانسی نہیں دی جاسکتی آپ کا بیٹا تو عمر قید سے بھی زیادہ قید کاٹ چکا ہے آپ نے وکیل مقرر کرنا ہے اس لیے سماعت ملتوی کررہے ہیں بعد ازاں عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔