طاہر القادری کو عمران خان کی بے وفائی نے دھرنا اچانک ختم کرنے پر مجبور کیا،سیاسی ذرائع

پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری کو عمران خان کی بے وفائی نے دھرنااچانک ختم کرنے کے فیصلہ پر مجبور کیااور وہ حکومت سے بھی کچھ حاصل نہ کر سکے اور سیاسی مبصرین کو بھی ان پر طعن زنی کا موقع مل گیا۔ سیاسی ذرائع نے آن لائن کوبتایا ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور بعض رہنمائوں کے بیانات اور رویوں سے کافی ناراض تھے۔ تحریک انصاف نے دھرنوں پر توجہ دینے کی بجائے جلسوں کا اعلان بھی غیر متوقع طور پر کردیا جس سے توجہ تقسیم ہوگئی اور ڈاکٹر طاہر القادری کو بھی جلسوں کا اعلان کرنا پڑا حالانکہ دونوں رہنمائوں میں تمام فیصلے باہمی مشاورت سے کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔ تحریک انصاف نے طاہر القادری کو یہ بھی یقین دہانی کرائی تھی کہ ملک بھر میں دونوں سیاسی جماعتوں کے جلسوں کا اسٹیج ایک ہی ہوگا اور جلسوں کا آغاز پنجاب کے شہر سے کیا جائے گا۔ عوامی تحریک کے سینیئر رہنمائوں کے قریبی ذرائع نے آن لائن کو مزید بتایا کہ ڈاکٹر طاہر القادری کے سال بھر کے پروگرام پہلے سے ہی مرتب شدہ ہوتے ہیں ڈاکٹر طاہر القادری نے لاہور واقع کے بعد دھرنے کا فیصلہ کیا تھا حالانکہ اس سے قبل انکا فیصلہ تھا کہ وہ ملک بھر احتجاجی جلسے اور جلوس ریلیاں نکالیں گے اور یہی بات تحریک انصاف سے بھی طے ہوئی تھی کہ وہ لاہور ماڈل ٹائون سانحے کی ایف آئی آر کے اندراج تک دھرنا دیں گے اس کے بعد چلے جائیں گے