وزیر اعظم نا اہل ہوں یا وزیر داخلہ،ہمیں کوئی سروکار نہیں،سپریم کورٹ

 سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ وزیراعظم یا وزیرداخلہ کے نااہل ہونے ہونے سے ہمیں سروکار نہیں ، عدالت نے ہر فیصلہ آئین کے مطابق کرنا ہے چاہے اس کے کچھ بھی نتائج نکلیں ' آئین میں صادق اور امین کی شرط رکھی گئی ہے اس کا تعین عدالت نے کرنا ہے' سپیکر نے درخواست گزاروں کی درخواستیں مسترد کردی تھیں ' درخواست گزار آخر کہاں جائیں تاہم درخواست گزار بھی ذہن میں رکھیں کہ آئین کا آرٹیکل 10 اے بھی موجود ہے ۔ بدھ کو قائمقام چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے چیف جسٹس ناصر الملک کے بیرونی دورے پر ہونے کی وجہ سے کیس کی سماعت کی' قبل ازیں جسٹس جواد ایس خواجہ نے خود کو وزیر اعظم نااہلی کیس کی سماعت سے الگ کرلیا تھا تاہم وہ بینچ میں بطور قائمقام چیف جسٹس شامل ہوئے ۔ جسٹس جودا د ایس خواجہ کی سربراہی میں جسٹس سرمد جلال عثمانی اور جسٹس مشیر عالم نے کیس کی سماعت کی ۔ دوران سماعت جسٹس جواد ایس خواجہ نے یہ ریمارکس دیئے۔ بینچ نے وزیراعظم کی نااہلی سے متعلق چوہدری شجاعت حسین، گوہر نواز اور اسحاق خاکوانی کی دائر درخواستوں کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے 4 سوالات پر معاونت طلب کی جس میں کہا گیا کہ اگر کسی ممبر اسمبلی کے نااہل ہونے کی درخواست آتی ہے تو مجاز فورم کون سا ہے؟، اگر طے ہوتا ہے کہ معاملہ عدالت سنے گی تو کون سی مجاز عدالت ہوگی؟، نااہلی کے لئے مجوزہ طریقہ کار کیا ہوگا؟ اور آخری سوال یہ کہ نااہلی کے لئے مجوزہ طریقہ کار کے لئے ثبوت کیا ہوں گے۔اس موقع پر جسٹس جواد کا کہنا تھا کہ کسی کے صادق ہونے کا تعین عدالت نے کرنا ہے جبکہ سپیکر نے بھی درخواست گزاروں کی درخواستیں مسترد کی تو وہ کہاں جائیں اور درخواست گزاروں کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیئے کہ آئین کا آرٹیکل 10 اے بھی موجود ہے تاہم اس سے کوئی سروکار نہیں کہ وزیراعظم اور وزیرداخلہ نااہل ہوجائیں لیکن ہمیں آئین کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔