واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب میں اربوں کی کرپشن،نیب نے تحقیقات کاآغاز کردیا

قومی احتساب بیورو(نیب) نے وفاقی وزارت برائے خصوصی اقدامات کی جانب سے 2005ء اور 2007ء میں واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب میں اربوں روپے کی کرپشن کی تحقیقات کا آغاز کر دیا،2005ء میں406منصوبوں کا ورک آرڈر جاری ہوا جن میں سے صرف 108 مکمل ہوئے، 2007ء میں 15843ملین روپے سے زائد مالیت کے ساڑھے 6ہزار منصوبوں کی منظوری دی گئی جن میں سے صرف 294مکمل ہو سکے۔ تفصیلات کے مطابق قومی احتساب بیورو نے پینے کے صاف پانی کے منصوبوں میں کرپشن کی تحقیقات شروع کر دیں۔ نیب کو موصول ہونے والی شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ پرو جیکٹ ''پینے کا صاف پانی سب کے لئے '' کے ٹینڈرنگ پروسیس میں سنگین بد عنوانیاں کی گئیں۔ اس کے علاوہ شکایت میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ وزارت ِ سپیشل انیشیٹو کے افسران نے ٹینڈرنگ پراسیس کے دوران چھ مختلف کمپنیوں سے مبینہ طور پر رشوت لی ہے۔ بعد میں اس پروجیکٹ کو روک دیا گیا اور تا حال اس پرو جیکٹ میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ترجمان کے مطابق واٹر فلٹریشن منصوبوں کے ٹینڈرز میں بڑے پیمانے پر بد عنوانی کی گئی، یہ منصوبہ2005ء خصوصی اقدامات کی وزارت نے شروع کیا تھا اور 6کمپنیوں کو یہ کام دیا گیا تھا