Get Adobe Flash player

آرمی چیف کی افغان حکام سے ملاقاتیں،دہشتگردوں کو پناہ دیکر انکی حوصلہ افزائی نہ کی جائے،جنرل راحیل

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ پاکستان ہمارا برادر ملک ہے' پاکستان نے لاکھوں افغانوں کو پناہ دے کر جو احسانات کئے افغان اسے کبھی فراموش نہیں کرسکتے' خطے میں امن دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے' افغان سرزمین کو ہم پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دینگے' جلد پاکستانی قیادت سے ملاقات کیلئے پاکستان کا دورہ کرونگا۔ وہ جمعرات کو پاکستانی آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے کابل کے صدارتی محل میں ملاقات کے دوران بات چیت کررہے تھے ۔ جنرل راحیل شریف کی کابل موجودگی کے دوران نیٹو کے سیکرٹری جنرل اسٹولن برگ غیر اعلانیہ دورے پر کابل پہنچ گئے۔ جنرل راحیل شریف نے افغان صدر اشرف غنی، افغان آرمی چیف شیر محمد کریمی اور افغان قومی سلامتی کے مشیر سے بھی ملاقاتیں کیں ۔ جمعرات کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے دورہ افغانستان میں کابل میں افغان صدر اشرف غنی، آرمی چیف شیر محمد کریمی اور افغان نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کی، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل راحیل شریف کی افغان صدر سے ملاقات مثبت رہی، ملاقات میں دوطرفہ تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ افغان آرمی چیف سے ملاقات میں سیکیورٹی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق آرمی چیف نے افغان صدر اور فوجی قیادت سے ملاقاتوں میں افغانستان کے اندر سے پاکستان میں ہونے والی دراندازی خاص طور پر ملا فضل اﷲ گروپ کی طرف سے سکیورٹی فورسز پر کئے جانے والے حملوں' بعض افغان حکام کے پاکستان پر مسلسل جھوٹے الزامات کا معاملہ پوری شدت سے اٹھایا۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی آرمی چیف نے واضح کیا کہ ایک ایسے موقع پر جب پاکستانی فوج شمالی وزیرستان سے دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے آپریشن کررہی ہے۔ افغان فورسز خطہ سے دہشت گردی کے خاتمہ کو یقینی بنانے کیلئے پاک فوج کا ساتھ دینے کی بجائے پاکستان سے بھاگے ہوئے دہشت گردوں کو افغانستان میں پناہ دے کر ان کی حوصلہ افزائی اور مدد کی جارہی ہے۔ آرمی چیف نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کا خاتمہ دونوں ممالک اور پورے خطے کے مفاد میں ہے۔ ذرائع کے مطابق آرمی چیف نے ملا فضل اﷲ کی پاکستان حوالگی کا معاملہ بھی افغان قیادت کے سامنے اٹھایا۔ دوسری طرف جنرل راحیل شریف کے کابل پہنچنے کے بعد نیٹو کے سیکرٹری جنرل اسٹولن برگ بھی غیر اعلانیہ دورہ پر کابل پہنچ گئے۔ وہ افغانستان کے رہنماؤں اور سیکیورٹی فورسز سے ملاقات کریں گے۔