قائد حزب اختلاف کی وزیراعظم سے ملاقات،چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پر مزید مشاورت کا فیصلہ

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا ہے کہ چیف الیکشن کمیشز کا تقرراتفاق رائے سے ہوجائے توبہتر ہے ،پہلے دن سے ہی چیف الیکشن کمشنر کاتقررمتنازعہ نہیں کرنا چاہتے ،تقرری کیلئے تمام جماعتوں سے مشاورت کریں گے اورحکومت کو بھی تمام جماعتوں سے رابطوں کا مشورہ دیاہے،چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کیلئے تین نام دیئے جن میں سے جسٹس (ر)سعید الزماں صدیقی کے نام پر اعتراض کیا جبکہ اجمل میاں کے نام پر حکومت نے اعتراض لگایاہے،جسٹس رانا بھگوان دا س کا نام ہم نے دیالیکن وہ خود آنے کو تیار نہیں۔جمعرات کوقومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے وزیراعظم میاں محمد نوازشریف سے ملاقات کی اور انہیں چیف الیکشن کمشنر کیلئے جسٹس ریٹائرڈ میاں اجمل کا نام تجویز کیا جسے وزیراعظم نے مسترد کر دیا،ملاقات میں مستقل چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیااور چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پر مزید مشاورت پر اتفاق کیا گیا۔بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا چیف الیکشن کمشنر کا تقرری پہلے دن سے ہی متنازعہ نہیں کرنا چاہتے، تقرری کیلئے تمام جماعتوں سے مشورہ کریں گے اور حکومت کو بھی تمام جماعتوں سے رابطوں کا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اور فاٹا کے رہنمائوں سے بات چیت ہوئی ہے جبکہ تحریک انصاف کے استعفے منظور نہیں ہوئے، اس لئے ان کو بھی رکن مانتا ہوں، ایم کیو ایم حکومت کے ساتھ تقریباً نظر آتی ہے، حکومت ہی ان سے رابطہ کرے گی، چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پر اے این پی سے بھی بات کی جائے گی۔خورشید شاہ نے کہا کہ وزیراعظم سے ملاقات میں چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کیلئے تین ناموں پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے جن میں سے سعید الزمان صدیقی کے نام پر ہم نے اعتراض کیا ہے جبکہ اجمل میاں کے نام پر حکومت نے اعتراض لگایا ہے