Get Adobe Flash player

چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پر عدم اتفاق،مشاورتی عمل تیز،پرویز رشید کے سیاسی رہنمائوں سے رابطے

نیا الیکشن کمشنر کون ہوگا؟ حکومت اور اپوزیشن لیڈر سرگرم ہو گئے۔ حکومت نے سابق چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی کا نام دیا جس پر اپوزیشن نے اعتراض کر دیا۔ اپوزیشن لیڈر کی جانب سے جسٹس ریٹائرڈ اجمل میاں کے نام پر حکومت راضی نہ ہوئی۔ حکومت کی جانب سے سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی اور سابق جسٹس رانا بھگوان داس کے نام زیر غور ہیں جبکہ اپوزیشن کی جانب سے جسٹس ریٹائرڈ طارق پرویز کا نام ابھی باقی ہے۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ سے  اسلام آباد میں شاہ محمود قریشی نے ملاقات کی جس میں تحریک انصاف کی جانب سے جسٹس ریٹائرڈ ناصر اسلم زاہد کا نام تجویز کیا گیا۔ خورشید شاہ کہتے ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر کے حوالے سے مختلف ناموں پر غور کیا گیا۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن خود مختار اور آزاد ہونا چاہیے۔ جماعت اسلامی نے بھی جسٹس ریٹائرڈ ناصر اسلم زاہد کے نام کی حمایت کی ہے۔ دوسری طرف وزیراعظم کی ہدایت پر وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید سیاسی رہنماں کو اعتماد میں لے رہے ہیں۔ پرویزرشید نے فضل الرحمان، سراج الحق، حاصل بزنجو، آفتاب شیر پا، حاجی عدیل، بابر غوری اور حیدر عباس رضوی سے مشاورت کی۔ جسٹس ریٹائرڈ بھگوان داس نے چیف الیکشن کمشنر کے لئے رابطوں کی تصدیق کی ہے۔ البتہ ان کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے کوئی حتمی بات کہنا مناسب نہیں ہوگا۔پاکستان تحریک انصاف نے چیف الیکشن کمشنر کیلئے  جسٹس ریٹائرڈ رانا بھگوان داس اور جسٹس ریٹائرڈ ناصر اسلم زاہد کو موزوں ترین  قرار دیدیا ہے ۔ چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کیلئے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کرنے کیلئے حکومت سے کسی قسم کی کوئی ڈکٹیشن لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔جمعہ کو اپوزیشن لیڈر سید خورشید احمد شاہ کی رہائش گاہ پر پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود قریشی کی ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سید  خورشید احمد شاہ نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کیلئے  پارلیمنٹ میں موجود اور اس سے باہر تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کرونگا اور اس کام کیلئے  مجھے حکومت سے اجازت لینے کی ضرورت  نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اب بھی پارلیمنٹ کا نمائندہ سمجھتا ہوں کیونکہ ان کے استعفے منظور  نہیں ہوئے اس لئے ان سے مشاورت بھی کی ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 13نومبر سے پہلے چیف الیکشن کمشنر کے ناموں پر سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے ہوجائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ 2013ء کے عام انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے ہمارے بھی تحفظات ہیں  سابق چیف الیکشن کمشنر فخرو الدین جی ابراہیم کے ساتھ دیگر الیکشن کمشنر کے حکام کو بھی استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا لیکن انہوں نے اخلاقی جرات کا مظاہرہ نہیں کیا۔ پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پی ٹی  آئی کا موقف ہے کہ ملک میں صاف شفاف الیکشن ہوں جس پر کسی بھی سیاسی جماعت کو کوئی تحفظات نہ ہوں  ۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں  پاکستان تحریک انصاف کے انتخابی اصلاحات کے پروگرام پر متفق ہیں  اور کسی کو اس پرکوئی  اعتراض نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ الیکشن کمیشن کے ہوتے ہوئے کسی بھی طور پر انتخابات قابل قبول نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے دیئے گئے کچھ اشخاص کیلئے  چیف الیکشن کمشنر کے تقررپر اعتراض ہے ۔