Get Adobe Flash player

صحت بڑا مسئلہ ہے، اسے سرد خانے میں نہیں ڈالا جا سکتا، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے پی آئی سی ادویات ری ایکشن از خود کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دئیے ہیں کہ اس معاملے پر جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کو ردی کی ٹوکری میں نہیں ڈالنے دیا جائے گا ،ملک میں صحت بہت بڑا مسئلہ ہے اب اس مسئلے کو سرد خانے میں نہیں ڈالا جا سکتا ،صحت کے شعبے میں موجود خامیوں سے متعلق عدالت کو آگاہ کیا جائے،کیا یہ افسوسناک نہیںکہ جعلی اوویات سے لوگوں کی ہلاکتیں ہوں، عدالت نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اورڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو عدالتی معاونت کے لئے طلب کر لیا۔ جمعہ کے روز سپریم کورٹ کے جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں کیس کی سماعت کی ۔سماعت کے دوران عدالتی معاون نے عدالت کو آگاہ کیاکہ پی آئی سی ادویات کمیشن کی روشنی میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کوتاحال فعال نہیں کیا جا سکا جبکہ محکمہ صحت میں افسروں کے تبادلے معمول کا حصہ بن چکے ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہے کہ ملیریا کی دوائی کھانے والے کوجعلی دوائی ملنے کے باعث آرام نہیں آتا،ادویات مہنگی کر کے عوام کو مرنے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے ،انسانی جانوں کے معاملے پر عدالتیں خاموش نہیں رہ سکتیں۔پی آئی سی سے دی جانیوالی ادویات کے ری ایکشن سے ہلاکتوں پرجوڈیشل کمیشن کی دی جانیوالی سفارشات کو ردی کی ٹوکری میں نہیں ڈالنے دیا جائے گا ۔جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں صحت بہت بڑا مسئلہ ہے اب اس مسئلے کو سرد خانے میں نہیں ڈالا جا سکتا ۔