مسیحی جوڑے کو زندہ جلانا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے،500 مفتیوں کا فتویٰ

سنی اتحاد کونسل کے 50 مفتیانِ کرام نے کوٹ رادھا کشن میں مسیحی جوڑے کو زندہ جلانے کے واقعہ پر جاری کیے گئے اپنے اجتماعی فتویٰ میں کہا ہے کہ مسیحی میاںبیوی کو زندہ جلانے والوں کا عمل اسلام کے منافی ہے۔ اس المناک واقعہ میں ملوث افراد نے قرآن و سنّت کے احکامات کی صریح خلاف ورزی کر کے بدترین گناہ اور سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے اور خدا کی مقررکردہ حدود سے تجاوز کیا ہے۔ مسیحی جوڑے کو زندہ جلانے والے فساد فی الارض کے مرتکب ہوئے ہیں جبکہ اسلام قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیتا۔ کسی بھی جرم کی سزا دینا ریاست کا کام ہے اور آگ میں جلانے کی سزا دینا صرف اﷲ تعالیٰ کا حق ہے۔ اسلامی شریعت میں محض الزام کی بنیاد پر بغیر تحقیق و تفتیش سزا دینے کی اجازت نہیں ہے۔ جرم ثابت ہونے کے بعد بھی سزا سنانا عدالت اور اس پر عمل ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اسلامی ملک میں رہنے والی اقلیتوں کے جان و مال کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے۔ سانحۂ کوٹ رادھا کشن ریاست کی ناکامی اور لاقانونیت و جنونیت کا مظہر ہے۔ نبی کریمۖ کے عہد ِ رسالت میں ذمیوں (اقلیتوں) سے جو معاہدے کیے گئے ان میں ان کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری لی گئی اور انہیں اپنی عبادات کی ادائیگی میں مکمل آزادی فراہم کی گئی۔