Get Adobe Flash player

وزیر اعظم کا دورہ چین پاکستان کی مہنگائی کے خاتمے اور ملکی خوشحالی کیلئے سنگ میل

وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد نواز شریف کا اہم وقت پر اہم دورہ چین،اربوں ڈالرز کے معاہدے ملکی تقدیر بدل دینگے۔ دھرنوں سے چینی صدر کے دورے کے التواء سے پیدا ہونے والی صورتحال،اور نقصان کا ازالہ جبکہ پاکستان کو ترقی کی دوڑ میں پیچھے رکھنے کے خواہش مند عناصر کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔وزیراعظم نواز شریف گزشتہ روز خصوصی طیارے کے ذریعے بیجنگ پہنچے جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیاگیا۔ چین میں پاکستان کے سفیر مسعود خان نے وزیراعظم کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔وزیراعظم آج اپنے چینی ہم منصب لی کنگ جنگ سے اہم ملاقات کریں گے۔اہم ترین دورے کے دوران وزیراعظم چینی صدر شی جنگ پنگ سے بھی ملیں گے۔ وزیراعظم نواز شریف گزشتہ روز بیجنگ کے مقامی وقت کے مطابق ساڑھے پانچ بجے اپنی اہلیہ اور وفد کے ہمراہ خصوصی طیارے کے ذریعے پہنچے۔ وزیراعظم کے ہمراہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف ،وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ ،آصف وفاقی وزیر برائے پلاننگ احسن اقبال، وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی، مشیر برائے خارجہ امور طارق فاطمی بھی ہیں۔وزیراعظم آج صبح  گریٹ ہال آف پیپلز کے لیے روانہ ہونگے جہاں وہ چینی ہم منصب سے ملاقات کے بعد اہم یاداشتوں پر دستخط کریںگے۔ بعد ازاں وزیراعظم چینی صدر شی جنگ پنگ سے بھی ملاقات کریںگے وزیراعظم روابط میں مضبوطی کے حوالے سے مذاکرات میں بھی شرکت کریں گے جس کا مقصد بالآخر اوپیک کی ممبر شپ حاصل کرنا ہے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اوپیک میںممبر شپ کے لیے بھارت سمیت متعدد ممالک نے درخواست دے رکھی ہے۔وزیراعظم کے دورے کا مقصد پاکستان کو خصوصی طور پر اس تنظیم کی ممبر شپ کے حصول کو یقینی بنانا ہے اسی حوالے سے اس سمٹ میں پاکستان کو شرکت کی خصوصی دعوت دی گئی ہے ۔وزیرپلاننگ احسن اقبال کے مطابق چین کے ساتھ پینتالیس ارب ڈالرز کے معاہدے ہوں گے جن میں چونتیس ارب ڈالر کے معاہدے بجلی کے ہیں باقی تمام معاہدے انفراسٹریکچر کے حوالے سے ہونگے جن میں کراچی سے پشاور تک ریلوے ٹریک اور لاہور کراچی موٹروے منصوبہ بھی شامل ہیں۔وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف کے مطابق توانائی کے معاہدے 10400میگا واٹ پیدا کرنے کے حوالے سے ہونگے یہاں یہ ذکر کر نابھی ضروری ہے کہ جن معاہدوں اور یاداشتوں پر دستخط کے لیے وزیراعظم نواز شریف خود چین تشریف لے گئے ہیں یہی معاہدے چینی صدر کی پاکستان آمد پر ہونا تھے ۔پاکستان میں جاری نام نہاد آزادی اور انقلاب کے لیے جاری دھرنوں نے چینی وزیراعظم کے دورے کو التواء کا شکار کیا اور ملک کو کئی سال پیچھے دھکیلنے کی سازش کی لیکن پاکستانی جمہوری حکومت نے ملکی ترقی کے لیے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے دھرنوں کا سامنا کیا اور اسی دوران چین سے سفارتی کوششوں کے ذریعے مجوزہ منصوبوں کی تکمیل کے لیے بات چیت جاری رکھی جس کا نتیجہ آج عوام کے سامنے ہے کہ وزیراعظم نواز شریف ملک و قوم کی ترقی کے لیے چین سے اربوں ڈالرز کے معاہدے کررہے ہیں دھرنوں نے جہاں ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا وہاں پاکستان کی عالمی سطح پر بدنامی بھی کی۔عالمی سیاست پر نظر ڈالی جائے تو پاکستان اس وقت نتہائی کا شکار ہورہا تھا ایک طرف پینٹا گون کی رپورٹ جس میں یہ الزام لگایا گیا کہ پاکستان ہمسائیہ ممالک میں بد امنی کے لیے شدت پسندوں کو استعمال کررہا ہے جس کی پاکستان نے سختی سے تردید کرتے ہوئے  امریکی سفیر رچرڈ اولسن کی طلبی کی اور احتجاج ریکارڈ کروایا۔وزیراعظم پاکستان چین جو کہ دنیا کا سپر پاور بننے والا ہے کا ایک ایسے وقت دورہ کررہے ہیں جب دنیا کی موجودہ سپر پاور امریکہ اور ایک اور ابھرتی ہوئی پاور بھارت نے اسے ٹف ٹائم دے رکھا ہے۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے منصب سنبھالنے کے بعد پاک بھارت کنٹرول لائن کی صورتحال بھی خراب سے خراب تر ہوتی جارہی ہے بھارتی فوج کی بلااشتعال کارروائیوں سے بے گناہ پاکستانی شہید ہورہے ہیں واہگہ بارڈر پر حالیہ دھماکے کی کڑیاں بھی بھارت کی طرف جارہی ہیں ۔بھارت نے چینی سرحد پر بھی ماحول کشیدہ کررکھا ہے دوسری جانب پاک ایران سرحد پر آئے روز فائرنگ کا تبادلہ اور شہریوں کا اغواء بھی اہم ایشو بن چکا ہے پاک ایران تعلقات بھی کچھ اتنے اچھے نہیں ۔گیس لائن منصوبے کے التواء کا عمل بھی دونوں ممالک کے اچھے تعلقات میں رکاوٹ ہے ۔افغانستان سے آئے روز گولہ باری اور افغان حکام کی بے بنیاد الزام تراشی نے ایک اور مسئلہ پیدا کررکھا ہے۔ ایسی صورتحال میں وزیراعظم کا اپنے بے لوث دوست ہمسائیہ ملک چین کا دورہ نہایت اہمیت کا حامل ہے وزیراعظم چین کی دوستی کو شہید سے میٹھی اور سمندر سے گہری قرار دے چکے ہیں۔وزیراعظم کے حالیہ دورے سے جہاں ملکی ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی وہاں عوام کو بجلی کی لوڈشیڈنگ جس سے تاجر برادری سخت پریشان ہے کا خاتمہ بھی ممکن ہوسکے گا۔ پاک چین مجوزہ منصوبوں سے پاکستان کے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار میسر آئے گا ۔سابقہ حکومتیں روٹی کپڑا اور مکان کے اور آزادی اور انقلاب کے نعرے تو لگا رہی تھیں لیکن نوازشریف کی جمہوری حکومت نے کم عرصے میں عوام سے کیے گئے وعدوں پر عمل کرکے ناقدین کے منہ بند کردیئے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر موجودہ حکومت کو مدت پوری کرنے دی جائے تو ملک ترقی و خوشحالی سے ہمکنار ہوجائے گا دوسری طرف دیکھا جائے تو دھرنے والوں نے عوام کو سبز باغ دیکھائے لیکن  عوام نے انہیں یکسر مسترد کرکے ثابت کردیا ہے کہ انہوں نے ن لیگ کی حکومت کو ووٹ دینے کا جو فیصلہ کیا تھا وہ آج بھی درست ہے ۔حکومت کے خلاف نعرے لگانے والوں کو پاک چین معاہدوں کے بعد ایک اور مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ وزیراعظم نوازشریف کہہ چکے ہیں کہ دھرنے دھرے رہ جائیں گے اورپاکستان آگے نکل جائے گا۔