Get Adobe Flash player

ایک ارب دس کروڑ ڈالرز کے قرض کا اجرائ،پاکستان اور آئی ایم ایف میں مذاکرات کامیاب

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان دوبئی میں جاری قرضے کی پانچویں اور چھٹی اقساط کے 1.1 بلین ڈالر کے اجراء کیلئے مذاکرات کامیاب ہوگئے ، آئی ایم ایف کا پاکستان کے معاشی جائزے پر مکمل اطمینان کا اظہار ، وزیرخزانہ اسحق ڈار نے مذاکرات کے اختتام پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کی طرف سے افراط زر اور بجٹ خسارہ کم کرنے کیلئے کیے گئے اقدمات اور معاشی جائزہ پر اپنے مکمل اطمینان کا اظہا رکیا ہے ، افراط زر کو 10 فیصد سے کم رکھا گیا ہے جبکہ اقتصادی شرح نمو میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ، پاکستان نے تمام اقتصادی اہداف حاصل کیے ہیں ، اس موقع پر آئی ایم ایف کے سربراہ جیفری فرینکس نے کہا کہ پاکستان کو اپنے ٹیکس نظام کو مزید موثر اور شفاف بنانے کی ضرورت ہے ، حکومت پاکستان سٹرکچرل اصلاحات کے ایجنڈے کو مزید وسعت دے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس کی وصولی کو بڑھا کر جی ڈی پی کی شرح میں بھی اضافہ کیا جاسکتا ہے اس کے ساتھ ساتھ ریگولیٹری اداروں کی استعداد کار میں بھی اضافہ کرے ، مذاکرات کی کامیابی پر اب پاکستان کو اگلے ماہ آئی ایم ایف سے ایک ارب دس کروڑ ڈالر کی دو اقساط مل جائیں گی ۔ دریں اثناء مذاکرات کے اختتام پر آئی ایم ایف کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جیفری فرینکس کی قیادت میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آء ایم ایف) کی ٹیم نے 29 اکتوبر سے 8 نومبر تک دوبئی میں پاکستان سے6.63 ارب ڈالر قرضے کے پروگرام کے چوتھے اور پانچویں جائزے پر بات چیت کی جس کے دوران پاکستانی وزیر خزانہ اسحاق ڈار، گورنر سٹیٹ بنک اور دیگر حکام سے ملاقاتیں ہوئیں ، بیان میں پاکستان کی اقتصادی کارکردگی، پیداوار میں اضافہ اور معاشی استحکام کو مضبوط بنانے کیلئے کیے گئے اقدامات کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ عمومی طور پر معاشی اظہاریے کارکردگی بہتر نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے مالی سال 2014-15 میں ترقی کی شرح 4.3 فیصدتک پہنچنے کا امکان ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ افراط زر کی شرح میں کمی دیکھی گئی ہے نجی شعبے کو قرضو ں میں قدرے تیزی آئی ہے برآمدات میں کمی اور درامدات میں اضافے سے پیدا خسارے کو تیزی سے بڑھتی بیرونی ترسیلات زر نے کچھ حد تک کم کیاہے ، زر مبادلہ کے مجموی ذخائر مارچ کے آخرمیں 5.4 ارب ڈالر سے بڑھ کرجون کے آخرتک 9.1 ارب ڈالر جا پہنچے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ نجکاری اور سکوک کا اجرا تاخیر اور غیر یقینی سیاسی صورت حال سے متاثر ہوا تاہم مشکلات کے باوجود آئی ایم ایف کا پروگرام درست جانب گامزن ہے۔ مرکزی بینک نے پروگرام کے تحت کارکردگی کے پیمانوں کی کافی حد تک تکمیل کی ہے اور حکام نے دسمبر کے آخرتک کے تمام اہداف پورے کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت غریب خاندانوں کو امدادی رقوم کی ترسیل کا علامتی ہدف پورا کیا گیا، آئی ایم ایف بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دائرے کو بڑھا کر اس سال کے آخر تک 4.8 ملین غریب خاندانوں تک پہنچانے کے عزم کا خیر مقدم کرتا ہے۔بیان میں آئی ایم ایف نے مالی سال 2013-14 کی اقتصادی کارکردگی پر اپنے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حکام کی طرف سے مالیاتی خسارے کو 4.8فیصد پر لانے کے عزم کی تائید کی ۔آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان کی طرف سے ٹیکس دائرے کو بڑھانے ، ایس آر اوز کے اجراء میں کمی ، ٹیکس نفاذ کے موزوں اورموثر طریقہ کارتشکیل دینے اور منی لانڈرنگ کے خلاف قانون سازی کی جانب پیشرفت اپنے اطمینان کا اظہا رکرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس کا مجموی ملکی پیداوار سے تناسب بڑھانے کیلئے فیصلہ کن کوششیں ضروری ہیں تاکہ ایک موثر اور مساویانہ ٹیکس نظام تشکیل دیا جاسکے اور انفراسٹرکچر اور صحت و تعلیم جیسے دیگر شعبوں کیلئے ضروری وسائل بھی مہیا ہو سکیں ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سٹیٹ بنک نے مانٹری پالیسی کے ذریعے افراط زر اور ذخائر کے اہداف کو پورا کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزی بینک کومزید خودمختار بنانے کیلئے قانون سازی کا عمل جاری ہے اور اندرونی اصلاحات بھی کی جارہی ہیں جبکہ بینکاری کے شعبے میں زیادہ آمدنی اور قرضوں کی بہتر وصولی کی وجہ سے کارکردگی مثبت رہی ہے ۔ آئی ایم ایف نے پاکستان پر عالمی منڈیوں میں بہتر مسابقت کیلئے اصلاحات کو مزید موثر بنانے پر زوردیتے ہوئے کہا ہے کہ توانائی کے شعبے میں تیل کی قیمتوں میں کمی ، ایل پی جی کی متوقع درامدات سے کم قیمت پرتوانائی کی فراہمی سے ٹیرف اصلاحات کرنے میں مدد ملے گی، بیان میں کہا گیا ہے کہ توانائی کے شعبے میں سے وابسطہ اداروں کی کارکردگی اور ریگولیٹر کی صلاحیت کو بہتر بنانے کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ آئی ایم ایف حکومت کے نجکاری پلان اور کاروباری ماحول کی بہتری کیلئے اصلاحات اور معاشی اصلاحات کا ایجنڈا نافذ کرنے کی حکومت کی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے ۔