Get Adobe Flash player

وزیر اعظم نے ریلوے کا رکردگی کو سراہا،کرپشن اور سفارش کو جڑ سے ختم کر کے دم لونگا،سعد رفیق

وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ وزیراعظم میاں نوازشریف اور وفاقی کابینہ نے پاکستان ریلوے کی کارکردگی پر اطمینان اور تعریف کی ہے جس پر ہمیں ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھنا بلکہ مزید محنت کرنا ہو گی' ریلوے سے کرپشن ، رشوت اور سفارش کو جڑ سے ختم کرکے دم لوں گا 'خیبر پختونخواہ کی حکومت نے ریلوے کی زمین ریلوے کے نام کروانے میں مدد کی ہے اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف سے بھی اپیل کر تا ہوں کہ وہ پنجاب میں ریلوے کی زمین محکمے کے نام کریں 'سکھر میں ریلوے کے 2ملازموں کا قتل دہشت گردی ہے اور وہ اپنے مذموم مقاصد کو کامیاب بنانے کیلئے خاص علاقوں میں کھڑی ہوئی بوگیوں کو آگ لگا رہے ہیں اور بہت جلد سکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر ان دہشت گردوں کے گریبانوں تک پہنچ جائیںگے' ریلوے کا ریونیو ہدف 28نہیں بلکہ 31ارب روپے ہے جسے ہر صورت کر کے دکھائیںگے'ریلوے کو پائوں پر کھڑا کرنے کیلئے سانس پھول جاتی ہے اور حوصلہ جواب دے دیتا ہے لیکن اس کے باوجود ہم ڈٹے ہوئے ہیں ' ریلوے کو دنیا بھر میں ماڈل بنانے کیلئے 10سال درکار ہیں۔ وہ ہفتہ کے روز لاہور ریلوے ہیڈ کوارٹر ز میں پریس کانفرنس کے دوران گفتگو کر رہے تھے اس موقع پر جنرل منیجر ریلوے آپریشن جاوید انور بوبک سمیت دیگر افسران موجود تھے ۔خواجہ سعد رفیق نے کہاکہ 17ماہ قبل ریلوے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے عملی اقدامات کئے تاہم اسے ماڈل بنانے کیلئے 10سال درکار ہوںگے جس کے بعد یہ مستحکم ادارہ بن جائے گا اس ادارے کو بہتر بنانے کیلئے سانس پھول گیا اور حوصلہ جواب دیا گیا لیکن ہمت نہیں ہاری اور ابھی تک ڈٹے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ریلوے میں آنے والے 51نئے نوجوان افسران کو کہہ دیا ہے کہ کسی بھی قسم کا غیر قانونی حکم ماننے سے انکار کر دیں کیونکہ وہ کسی فرد واحد کیلئے نہیں بلکہ ادارے کیلئے کام کر تے ہیں جبکہ نوجوان رشوت ، سفارش اور اقربا پروری سے دور رہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان ریلوے کورواں سال 28ارب روپے کا ریونیو ٹارگٹ دیا گیا ہے لیکن ہم 28 کے بجائے 31ارب روپے کا ٹارگٹ پورا کریں گے ہمارے اخراجات 65ارب روپے ہیں جسے کم کرکے 62ارب روپے تک لائیںگے اور 85فیصد اخراجات ہمارے کنٹرول سے باہر ہیں کیونکہ 10فیصد پنشن اور تنخواہوں اور 19فیصد فیول کی مد میں چلا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ریلوے میں سیاسی بنیادوں پر کی جانے والی بھرتیوں سے ریلوے کو نقصان پہنچاہے لیکن ہم ان مزدوروں کو نہیں نکالیںگے بلکہ اس سسٹم کو بہتر کیا جائے جہاں ملازمین کی ضرورت ہے وہاں فراہم کریںگے۔