کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ،جوابی کارروائی پر دشمن کی توپیں خاموش

پرویز مشرف کے دور حکومت میں پاک بھارت حکومتوں کے مابین طے پانیوالے سیز فائر معاہدے کے بعد پہلی مرتبہ بھارتی افواج نے اوڑی سیکٹر سے سرحدی علاقے پانڈو پر بھاری توپ خانے سے بلااشتعال فائرنگ کی ہے جسمیں دو افراد زخمی ہوگئے جبکہ پاک فوج نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن کی توپوں کو خاموش کرادیا ۔تفصیلات کے مطابق بھارتی قابض افواج نے ہفتہ کی شام سرحدی علاقے پانڈو پر مارٹر گولے برسائے بھارتی قابض افواج کی سرحدی علاقہ پر بلااشتعال گولہ باری تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہی ۔بھارتی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں دو عام شہری زخمی بھی ہوگئے جن میں سے ایک کی شناخت کاظم کے طور پر ہوئی ہے ۔اس دوران پاک فوج نے بھارتی گولہ باری کا بھرپور جواب دیتے ہوئے دشمن کی گنیں خاموش کرادیں ۔ علاقہ میں مواصلاتی رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے جانی و مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوسکی ہے ۔ بھارتی گولہ باری کے بعد تقریباً دس سال سے زائد عرصہ کے بعد چناری ، چکوٹھی ، گوجر بانڈی اور گردونواح میں لوگوں میں شدید خوف وہراس پھیل گیا ہے سرحدی علاقہ کے لوگ گھروں کے اندر بند ہوکر رہ گئے ہیں یاد رہے کہ مشرف دور حکومت میں ہونے والے سیز فائر اور اس کے بعد لائن آف کنٹرول چکوٹھی کراسنگ پوائنٹ سے سرینگر مظفر آباد بس سروس اور تجارت شروع ہونے کے بعد آج تک اتنے بڑے پیمانے پر بھارت کی جانب سے گولہ باری نہیں کی گئی پہلی مرتبہ بھارتی فوج نے دو گھنٹہ تک شدید گولہ باری کرکے سیز فائر کی خلاف ورزی کردی ہے۔