چینی معاہدوں سے عمران خان کے عزائم خاک میں مل گئے،دھمکیاں پہلے بھی سنیں 30نومبر کو بھی دیکھ لیں گے،پرویز رشید

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ حکومت نے پی ٹی آئی سے مذاکرات کا عمل ختم نہیں کیا بلکہ عمران خان نے کنٹینر پر کھڑے ہو کر اپنی مذاکراتی ٹیم کو ویٹو کر دیا ، ان سے اب بھی گزارش ہے کہ اپنی مذاکراتی ٹیم کی ہتھکڑیاںکھول دیں اور انہیں مذاکرات کیلئے آنے دیں،چینی معاہدوں سے عمران خان کے عزائم خاک میں مل گئے ۔پہلے بھی دھمکیاں سنتے آرہے ہیں 30نومبر کو بھی دیکھ لیں گے۔(ن) لیگ نے سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کو عزت  اور احترام دیا او رانکا ہر طرح سے خیال رکھالیکن انکے ایک چہیتے بیٹے نے انکی سیاست کو نقصان پہنچایا ، جب وہ اپنے بیٹے کے دئیے ہوئے الفاظ چباتے ہیں تووہ اپنے بیٹے کی سیاست کرتے ہیں اگر وہ اپنے بیٹے کی سیاست کرنی چھوڑ دیں اور (ن) کی سیاست کرنا شروع کر دیں تو یہ انکے لئے بھی اور سب کے لئے بھی بہتر ہے ، غوث علی شاہ سندھ کے صدر تھے اور گزشتہ انتخابات میں پارٹی کی کارکردگی انکی ذمہ داری تھی ، داعش کی پنجاب میں موجودگی کی کوئی اطلاع نہیں ، کچھ لوگ اس کے نام کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن دہشتگرد خواہ اپنا نام داعش رکھیں یا کوئی دوسر انام منتخب کریں وہ جس نام سے دہشتگردی کی کوشش کریں گے انکے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جو شمالی وزیرستان کے دہشتگردوں سے کیا جارہا ہے ،چیف الیکشن کمشنر کے نام پر اتفاق رائے کیلئے دوسری جماعتوں سے بھی مشاورت کا سلسلہ جاری ہے ۔ ایوان اقبال میں یوم اقبال  کی مناسبت سے منعقدہ تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ موجودہ حکومت ملک کو ترقی کی جانب لیجانا چاہتے ہیں لیکن دھرنا سیاست نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا  ۔وہ کام جن کو روکا گیا تھاجن میں رکاوٹ دالی گئی تھی جن کاموں کو اگست کے مہینے میں ہو جانا چاہیے تھا لیکن اغراض کی سیاست اس میں رکاوٹ بن گی ۔ دورہ چین سے نواز شریف نے انکی کاموں کی تکمیل کی ہے ۔ بجلی کے جن منصوبوں پر نواز شریف نے دستخط کر کے ابتداء کی ہے یہ اگر اگست کے مہینے میں شروع کر دئیے جاتے تو پاکستان کے لوگ کم سے کم چھ ماہ پہلے لوڈ شیڈنگ کی اذیت سے نجات حاصل کر سکتے تھے اب جو ان منصوبوں کی تاخیر کی وجہ سے بجلی کمی ہو گی اسکی تمام تر ذمہ داری دھرنا سیاست پر ہے ،دھرنا سیاست نے نہ صرف ان منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر کی وجہ بنی بلکہ پاکستان کو جو مالی فوائد حاصل ہو سکتے تھے اس سے بھی محروم رکھا ۔انہوں نے کہا کہ چین سے طے پانے والے معاہدوں میںایسے منصوبے ہیں جو مختصر مدت میں مکمل ہوں گے ،کچھ مڈٹرم او رکچھ لانگ ٹر م منصوبے ہیںلیکن  حکومت توانائی کے منصوبوں کیلئے زیادہ کوشش کر رہی ہے ۔ ان منصوبوں سے دس ہزار میگا واٹ بجلی میسر آئے گی جو تین سال کے عرصے میں مکمل ہوں گے جب یہ منصوبے بن رہے ہوتے ہیں ۔  انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نے تو جنم ہی اقبال کے افکار اور قائد اعظم کے عمل سے لیا ہے جو جماعت انکی فکر سے سے پلی بڑھی وجوود میں آئی تو یہ اسی کا تسلسل ہے ، اقبال کی فکر کیا تھا آپ خود کفیل ہوں اپنے پائوں پرکھڑے ہوں او رمسلمانوں کے لئے ایک ایسا آزا وطن حاصل کیا جائے جہاں وہ اپنی تہذیبی ثقافتی روایات کے مطابق زندگی گزار سکیں او رمعاشی طور پر ترقی حاصل کر سکیں۔ مسلم لیگ (ن) کا یہی منشور ہے ۔ پرویز رشید نے پی ٹی آئی سے مذاکرات کے سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت کی طرف سے مذاکرقت کا عمل ختم نہیں کیا گیا تھا بلکہ ابتداء ہی حکومت کی طرف سے کی گئی تھی عمران خان نے کنٹینر پر کھڑے ہوکر اپنی مذاکراتی ٹیم کو ویٹو کر دیا او راسے مذاکرات سے روکدیا ۔ میں بار بار ان سے گزار ش کر چکا ہوں پھر گزارش کروں گا کہ اپنی مذاکراتی ٹیم کی ہتھکڑیاں کھول دیں اور انہیں مذاکرات کے لئے آنے دیں ۔ انہوں نے چیف الیکش کمشنر کے نام کے حوالے سے کہا کہ عمومی طور پر پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں ان ناموں پر ایک آدھ نام پر متقفق ہیں جن کے لئے مشورہ کیا جارہاتھا اور لیڈر آف دی ہائوس اور اپوزیشن لیڈر دونوں نے کچھ نام متفقہ طور پر دئیے ہیں اس پر باقی جماعتوں سے بھی مشورہ کیا جارہا ہے ،رانا بھگوان داس کے نام پر عمومی طور پر متفقہ رائے قائم تھی لیکن انہوں نے یہ عہدہ قبول کرنے سے معذرت کر لی ہے ۔مجھے یہ معلوم نہیں کہ انہوںنے اسکی وجوہات کیا بتائی ہیں لیکن جو مجھے محسوس ہوا ہے کہ جس طریقے سے ہم عہدوں پر جو لوگ خدمات سر انجام دیتے ہیں انکی تحقیر کی جاتی ہے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے یہ بھی وجہ ہو سکتی ہے ۔فخر الدین جی ابراہیم کے بارے میں متفقہ رائے تھی اور عمران نے بھی مثبت رد عمل دیا اور ان کا نام قبول کیا تھا اور پھر اس بزرگ شخص جس نے پاکستان کی خدمت کی انکے ساتھ اپنی تقایر میں عمران خان جو سلوک کرتے رہے پھر آپ خود سوچیں کتنے لوگ یہ رسک لینے کو تیار ہوں گے ۔ عمران خان اپنے الفاظ کا استعمال دانشمندی سے کریں اور تنقید کوتحقیر اورتذلیل میں تبدیل نہ کریں پھر بہت اچھے اچھے لوگ ہیں جو پاکستان کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کوٹ رادھا کشن کے واقعے پر کہا کہ اس واقفے میں جو لوگ قتل ہوئے وہ ہمارے پاکستانی بہن بھائی تھے حکومت مقتولن کے ساتھ کھڑی ہے قاتلوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور انہیں اسکی سزا دی جائے گی ۔ انہوں نے سانحح ماڈل ٹائون کے حوالے سے کہا کہ حکومت جس کے ساتھ بھی نا انصافی ہو گی اسکے ساتھ کھڑی ہے اور اسکی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ سانحہ ماڈل ٹائون کا جو سیاسی استعمال ہے اس نے مقتولین کے کیس کو خراب کیا ہے ۔ اگر ان لوگوں کو ہمدردی ہوتی تو وہ آزادانہ تحقیقات میں شامل ہوتے ۔ طاہر القادری نے تو کینیڈا سے آنے سے پہلے اشتعال انگیز تقاریر شروع کر دی تھیںجس سے سب واقف ہیں۔ انہوں نے داعش کی پنجاب میں موجودگی کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ ہماری پاس اس حوالے سے کوئی اطلاع نہیں ۔ کچھ لوگ اس کے نام کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دہشٹگردوںکا کوئی نام نہیں ہوتا ، دہشتگرد خواہ اپنا نام داعش رکھیں یا کوئی دوسر انام منتخب کریں وہ جس نام سے دہشتگردی کی کوشش کی کوشش کریں گے انکے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جو شمالی وزیرستان کے دہشتگردوں سے کیا جارہا ہے ۔انہوں نے سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کی ناراضی کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ جہاں تک ان کا تعلق ہے تو پارٹی نے ان کو عزت اوراحترام دیا ہے اور ہمیشہ ان کا خیال رکھا ہے انکے اپنے چہیتے بیٹے کی وجہ سے کھوسہ صاحب کی سیاست کو نقصان پہنچا اور یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ خود انکا اپنا ایک بیٹا وہ یہ بات کہتا ہے کہ انکے بھائی کی سیاست نے انکے خاندانی سیاست کو نقصانات پہنچائے ہیں ۔ حالیہ انتخابات میں کھوسہ صاحب کے امیدوار جن کا تعلق انکے خاندان سے تھا کامیابی نہیں مل سکی لیکن ہم ان سے اتنا پیار کرتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن ) نے انہیں سینیٹ کا ممبر بنایا ۔ اپنے بیٹے کی وجہ سے وہ منتخب ایوانوں سے باہر نکلے مسلم لیگ (ن) اورنواز شریف کی وجہ سے وہ سینیٹ سینٹ ممبر بنے پھر سوچنا چاہیے کہ ہم انکے لئے کیا جذبات رکھتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے دھرنا سیاست لاشوں کے حصول کے لئے کی تھی لیکن وہ انہیں دستیاب نہیں ہوئی اب وہ اپنے اراکین اسمبلی کو منتخب ایوانوں سے باہر لے جا کر انہیں مجاور بنا کر بٹھانا چاہتے ہیں ۔