Get Adobe Flash player

حج کرپشن کیس کا فیصلہ کا لعدم ، حامد سعید کاظمی باعزت بری

 اسلام آباد  ہائی کورٹ نے حج کرپشن کیس میں ماتحت عدلیہ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے سابق وفاقی وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی سمیت دیگر ملزمان کو باعزت بری کردیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ  کے فاضل جج جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت مکمل ہونے پر ماتحت عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے امورحامد سعید کاظمی، راؤ شکیل اور آفتاب الاسلام کو باعز ت بری کردیا۔   سابق وفاقی وزیر برائے مذہبی امور حامد سعید کاظمی،  سابق جوائنٹ سیکرٹری راجہ آفتاب السلام اور سابق ڈائریکٹر جنرل حج راؤ شکیل سمیت دیگر ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے 2010 کے حج انتظامات کے دوران جدہ ، مکہ اور مدینہ میں پاکستانی عازمین حج کے لئے عمارتیں کرائے پر لینے کے عمل میں بڑے پیمانے پر مالی بے قاعدگیاں کیں اور اس ضمن میں حجاج کرام سے کروڑوں روپے زائد وصول کئے۔ گزشتہ برس اسلام آباد کی ماتحت عدالت نے حامد سعید کاظمی اور راجہ آفتاب السلام کو سیکشن 409/34 تعزیرات پاکستان کے تحت 6 سال قید جبکہ دفعہ 420,468,471 تعزیرات پاکستان کے تحت مزید 6 سال کی سزا اور 15،15 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔ جرمانے کی عدم ادائیگی پر دونوں مجرموں کو مزید 4 سال قید کی سزا کاٹنا تھی۔ جب کہ کیس کے مرکزی ملزم راؤشکیل کو مجموعی طور پر 40 سال قید اور 15کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔  حامد سعید کاظمی نے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں نظر ثانی کی اپیل دائر کی تھی جس کے بعد حامد سعید کاظمی نے سپریم کورٹ میں بھی درخواست دائر کی تھی جس کی بنیاد پر عدالت عظمیٰ نے حامد سعید کاظمی کی اپیل پر پندرہ دن میں کیس نمٹانے کی ہدایت کی تھی۔