Get Adobe Flash player

اسلامی ممالک کے حکمران متحد ہوں ورنہ مسائل حل نہیں ہونگے،سراج الحق

 امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ عالمی اسلامی تحریکوں کو اسلام دشمن قوتوں کے اسلام کے خلاف پراپیگنڈے کا موثر جواب دینے کے لیے مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے ، جب تک اسلامی ممالک کے حکمران متحد ہو کر اس طرف توجہ نہیں دیں گے ، امت مسلمہ کے مسائل حل نہیں ہوں گے ، اسلامی تحریکوں کو جمہوری اور پارلیمانی نظام کے ذریعے آگے بڑھنا اور عالمی امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔ان خیالات کااظہار انہو ں نے مکہ مکرمہ میں جاری رابطہ عالم اسلامی کے اجلاس کے موقع پر سیکرٹر ی جنرل مسلم ورلڈ لیگ ڈاکٹر عبدالکریم العیسیٰ کی طرف سے دیے گئے ظہرانہ پر اسلامی سکالرز کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر عبدالرشید ترابی اور ڈپٹی سیکرٹری جنرل محمد اصغر بھی موجود تھے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ اس وقت دنیا بھر میں مسلمانوں کا خون بہایا جارہاہے اورمسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جارہاہے ۔ کشمیر ، فلسطین اور برما میں مسلمانوں کی اجتماعی نسل کشی جاری ہے ۔ ان مقبوضہ مسلم علاقوں میں مساجد و مدارس اور مسلم آبادیوں کو نشانہ بنایا جارہاہے ۔ معصوم بچوں ، خواتین اور ضعیف و ناتواں بزرگوں کا بھی کوئی لحاظ نہیں کیا جارہا۔ بنگلہ دیش میں اسلامی تحریک کی قیادت کو پھانسیوں پر لٹکایا جارہاہے اور ہزاروں بے گناہ کارکنان جن میں سینکڑوں کی تعداد میں خواتین بھی ہیں ، انہیں جیلوں میں بند کر رکھاہے ۔ انہوں نے کہاکہ جب تک ان سلگتے مسائل کے حل کے حوالے سے عالم اسلام خصوصاً عالمی اسلامی تحریکیں مشترکہ لائحہ عمل اختیار نہیں کریں گی یہ مسائل حل نہیں ہوں گے اور معصوم مسلمانوں کا قتل عام جاری رہے گا ۔ انہوں نے کہاکہ عالم اسلام کے حکمرانوں کو بھی ان کا فرض منصبی یاد دلانے کی ضرورت ہے لیکن یہ تبھی ممکن ہو سکتاہے جب اسلامی ممالک کے عوام کی بہت بڑی اکثریت ان اسلامی تحریکوں کے شانہ بشانہ چلنے کو تیار ہوگی۔