Get Adobe Flash player

اسلام آباد ہائیکورٹ نے شرجیل کی حفاظتی ضمانت میں 5اپریل تک توسیع کردی

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیپلزپارٹی کے رہنما شرجیل میمن کی حفاظتی ضمانت میں پانچ اپریل تک توسیع کردی  ،20لاکھ کے مچلکوں کے عوض سابق صوبائی وزیر کی ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے انہیںآئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے،دوسری طرف شرجیل میمن نے کہا ہے کہ عدالت کی طرف سے انصاف فراہم کرنے پر شکرگزار ہوں،میں نے وطن واپس آکر خود کو عدالت کے سامنے پیش کیا ہے کیونکہ چاہتا ہوں کہ جھوٹے مقدمات کا سامنا کروں اور لگائے گئے الزامات کا جواب دوں،میرے لیے آسان تھا کہ میں بیرون ملک بیٹھ کر زندگی گزارتا ۔پیر کواسلام آباد ہائی کورٹ میں پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن کی حفاظتی ضمانت میں توسیع کی درخواست پر سماعت ہوئی کیس کی سماعت  جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے کی۔نیب کی مخالفت کے باوجودعدالت نے شرجیل میمن کی پانچ اپریل تک حفاظتی ضمانت 20لاکھ مچلکوں کے عوض منظور کرتے ہوئے،انہیں متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی اور ضمانت میں توسیع حاصل کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ وہ معزز عدالت کے شکرگزار ہیں کہ انہیں انصاف فراہم کیا گیا    میرے لیے آسان تھا کہ میں بیرون ملک بیٹھ کر زندگی گزارتا اور ان مقدمات کا سامنا نہیں کرتا'۔وفاقی وزیر داخلہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'یہ کیس جھوٹے ہیں اور ان کے پیچھے چوہدری نثار اینڈ کمپنی کام کررہی ہے جس کا مقصد سیاسی انتقام لینا ہے، وہ ایسا کرتے رہیں ہم مقدمات کا سامنا کرتے رہیں گے ضمانت قبل از گرفتاری کی وضاحت دیتے ہوئے کہا  کہ اس کیس میں نامزد دیگر 16، 17 لوگوں نے بھی ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر رکھی ہے اور انہیں اس ضمن مین کوئی خاص فائدہ نہیں دیا جارہا ۔شرجیل میمن نے کہا کہ 'میں نے پاکستان آکر خود کو عدالت کے سامنے پیش کیا ہے، کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ جھوٹے مقدمات کا سامنا کروں'۔صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے مزید بتایا کہ یہ ریفرنس دو سال پہلے نہیں بنا تھا اور جب وہ ملک چھوڑ کر گئے اْس وقت ان کے خلاف کوئی مقدمہ یا ریفرنس دائر نہیں تھا۔واضح رہے کہ  شرجیل انعام میمن نے 2015 میں خود ساختہ جلا وطنی اختیار کرلی تھی، تقریباً 2 سال تک بیرون ملک رہنے کے بعد وہ 18 اور 19 مارچ کی درمیانی شب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچے تو انہیں قومی احتساب بیورو (نیب) کے اہلکاروں نے ایئرپورٹ سے ہی گرفتار کرلیا تھا۔تاہم نیب راولپنڈی کے اہلکاروں نے شرجیل میمن سے 2 گھنٹے پوچھ گچھ کرنے اور ضمانتی کاغذات دیکھنے کے بعد انہیں رہا کردیا تھا۔سابق صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن 20 مارچ 2017 تک اسلام آباد ہائی کورٹ کی حفاظتی ضمانت پر تھے۔