Get Adobe Flash player

وزیر اعظم صادق اور آمین نہیں رہے،نواز شریف فوری مستعفی ہوں،عمران خان،عدالتی فیصلہ مسترد کرتے ہیں،آصف زرداری

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے پانا ما کیس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وزیر اعظم سے فوری طورپر مستعفی ہو نے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ ساٹھ روز تک وزیر اعظم اپنے عہدے سے علیحدہ  ہو جائیں وہ صادق اور امین نہیں رہے اگر الزامات سچ ثابت نہ ہوئے تو عہدے پر واپس آجائیں،منی ٹریل کے حوالے سے مسلم لیگ نون کے موقف کو مسترد کردیاگیا،وزیراعظم کے ماتحت ادارے اُن کیخلاف تحقیقات نہیں کرسکتے۔ جمعرات کو بنی گالا میں پارٹی کے دیگر رہنمائوں کے ہمراہ پانا ما کیس فیصلے پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ سپریم کورٹ کے ججز کو قوم کی طرف سے خراج تحسین پیش کرتا ہوں  ملک میں ایک تاریخ بنی ہے کہ موجودہ وزیر اعظم کے حوالے سے سپریم کورٹ نے کیس سنا  ججز نے تین ماہ تک اس کیس کی سماعت کی پاکستان کی تاریخ میں ایسا فیصلہ کبھی نہیں آیا انہوںنے کہاکہ فیصلہ آیا ہے کہ پانچوں ججز نے قطری خط کو مسترد کر دیاہے اور اس کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دی ہے اس فیصلے سے ثابت ہوتا ہے کہ انہوںنے منی ٹریل کے حوالے سے جو بھی موقف پیش کیا ہے سپریم کورٹ نے اسے مسترد کر دیا ہے فیصلے میں دو ججز نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کو فوری طورپر نا اہل قرار دیا جائے کیونکہ وہ صادق اور امین نہیں رہے ۔عمران خان نے کہاکہ قوم کی طرف سے نواز شریف کو کہتا ہوں کہ وہ فوری طورپر مستعفی ہو ںجبکہ جے آئی ٹی کی تحقیقات مکمل نہیں ہوجاتی وہ اپنے عہدے سے ہٹ جائیں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ان کے پاس کونسا اخلاقی جواز باقی رہ گیا ہے کہ وہ اس ملک کے وزیر اعظم رہیں انہوںنے کہاکہ عزیر بلوچ کی طرح ان پر جے آئی ٹی الزامات کی تحقیقات کریگی ان کے پاس کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے وہ وزیراعظم رہیں انہوںنے کہاکہ سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں پہلے ہی نیب کو تحقیقات میں ناکام قرار دیا ہے   صرف ایم آئی اور آئی ایس آئی  کے علاوہ اب بھی  باقی ادارے وزیراعظم کے نیچے ہونگے جب تک نوازشریف استعفیٰ نہیں دے دیتے تحقیقات ٹھیک نہیں ہوسکتیں عمران خان نے کہاکہ ملک میں اتنے مسائل ہیں بجلی کی لوڈشیڈنگ ہے معیشت تباہ ہوگئی ہے ان حالات میں نوازشریف کس طرح ملک کے مسائل پر توجہ دے سکتے ہیں  وہ ملک کو بچائیں گے یااپنے آپ کو بچائیں گے استعفے کے علاوہ ان کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے اگر وہ ساٹھ دن میں کلیئر ہوجاتے ہیں تو اپنے عہدے پر واپس آجائیں یوسف رضاگیلانی کے حوالے سے بھی انہوں نے یہی کہاتھا۔ ایک طرف وزیراعظم کرپشن کے الزامات ہیں اور وہ کیسے وزیراعظم کے منصب پرفائز رہ سکتا ہے عمران خان نے کارکنوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہاکہ وہ خوشی منائیں کارکنوں کی کوشش کے بعد اتنا بڑا فیصلہ آیا ہے ججز نے قطری خط مسترد کردیا حدیبیہ پیپرزمل کاکیس بھی کھلے گا عوام اگر سڑکوں پر نہ نکلتی تو کبھی یہ کام نہ ہوتا ہمیں اقتدار میں آنیوالے لوگوں کااحتساب چاہیے وزیراعظم کی اور تلاشی لی جائے گی وزیراعظم کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونا پڑے گا جدوجہد نہ کرتے تو یہ نہ ہوتا انہوںنے کہاکہ ہمیں سپریم کورٹ کافیصلہ قبول ہے سماعت کے دوران سپریم  کورٹ نے تاریخ بنائی دوججز نے جو فیصلہ دیا ہے ہمیں زیادہ سے توقع تھیں اب یہ جے آئی ٹی سپریم کورٹ کے نیچے ہوگی نیب کی کارکردگی تو صفر ہے اور وہ نوازشریف کے سامنے گھٹنے ٹیک بیٹھی ہے نوازشریف اب کوشش کریں گے کہ یہ ادارے اب کام  نہ کریں اگروہ استعفیٰ نہیں دینگے تو ان کی توہین ہوگی جس طرح عزیر بلوچ کی تحقیقات ہورہی ہیں اسی طرح نوازشریف سے پوچھا جائے گا تو ان کی کیا عزت رہ جائیگی  ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہاکہ مسلم لیگ ن کس چیز کی مٹھائیاں بانٹ رہی ہے دوججز نے کہہ دیا کہ یہ جھوٹا ہے جبکہ تین ججز نے کہاکہ قطری خط کو تسلیم نہیں کرتے جھوٹ بولنے کی خوشی منارہے ہیں انہوں نے کہاکہ کارکن ساٹھ دن کاانتظار کریں اورخوشیاں منائیں۔سابق صدر آصف زرداری کا کہنا ہے کہ  سپریم کورٹ کے فیصلے سے جمہوریت اور انصاف کو نقصان پہنچا جب کہ عمران خان کے ڈرامے کا سب سے زیادہ فائدہ وزیراعظم کو پہنچا۔اسلام آباد میں چیرمین پیپلز پارٹی اور دیگر پارٹی رہنماں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ یہ نا اہل حکمران ہیں اور ان سے حکومت نہیں چل رہی ہے، ملک بحران کی جانب جا رہا ہے اور ان لوگوں کو اپنی عیاشیوں سے فرصت نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ کس بات کی مٹھائی بانٹ رہے ہیں، کیا اس بات کی مٹھائیاں کھلائی جا رہی ہیں کہ دو ججز نے وزیراعظم کو نااہل قرار دیدیا ہے، وزیراعظم کو نااہل قرار دینے والے دو ججز کو سلام پیش کرتا ہوں اور وزیراعظم سے استعفی کا مطالبہ کرتا ہوں۔آصف زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا پہلے روز سے موقف تھا کہ پاناما کیس سپریم کورٹ میں نہیں جانا چاہیئے لیکن چند نا اہل سیاستدان اپنی سیاست چمکانے کے لئے اس کیس کو سپریم کورٹ میں لے گئے، سپریم کورٹ کے فیصلے سے جمہوریت اور انصاف کو نقصان پہنچا جب کہ عمران خان کے ڈرامے کا سب سے زیادہ فائدہ وزیراعظم کو پہنچا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے عمران خان سے کہا تھا کہ اگر تمام جماعتیں ایک ساتھ حکومت کے خلاف سپریم کورٹ جائیں اور اعتزاز احسن اس کیس کو لڑیں تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کیس کا فیصلہ کیا ہوتا لیکن انہوں نے اپنی من مانی کی، عوام کو دھوکا دیا گیا اور ان کے ساتھ مذاق کیا گیا۔ایک سوال کے جواب میں آصف زرداری نے کہا کہ آپ کسی بھی لسی والے یا دودھ والے کے پاس چلے جائیں تو وہ کہے گا کہ گلی گلی میں شور ہے، نواز شریف چور ہے۔ سابق صدر نے کہا کہ پیپلز پارٹی جمہوریت کے لئے اپنی جدو جہد جاری رکھے گی اور اگر کوئی سیاستدان 50 ہزار افراد لے کر سڑکوں پر آ جائے تو حکومت اس کے ہاتھ میں نہیں دی جا سکتی۔