Get Adobe Flash player

نواز شریف وزارت عظمیٰ کا حق کھو چکے،مستعفی ہوں،چوہدری شجاعت

پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد نوازشریف وزارتِ عظمیٰ کا حق کھو بیٹھے ہیں، انہیں کلین چٹ نہیں ملی، 5 فاضل ججوں میں سے کسی نے انہیں صادق و امین قرار نہیں دیا انہیں چاہیے کہ وزارتِ عظمیٰ چھوڑ دیں۔ وہ سینیٹر کامل علی آغا، طارق بشیر چیمہ ایم این اے، محمد بشارت راجہ، ڈاکٹر خالد رانجھا، سید دلاور عباس اور اجمل خان وزیر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ دو معزز جج صاحبان نے وزیراعظم کو صادق و امین نہ ہونے پر نااہل قرار دیا جبکہ تین فاضل ججوں نے بھی ان کے موقف کی مخالفت نہیں کی، خاموشی نیم رضامندی ہوتی ہے، انہوں نے مزید تفتیش کی بات کی اور وزیراعظم کو بری الذمہ ہرگز قرار نہیں دیا نہ ہی یہ کہا ہے کہ وہ صادق اور امین ہیں، موجودہ فیصلہ کی روشنی میں وزیراعظم کے پاس اقتدار میں رہنے کا کوئی جواز نہیں کیونکہ وہ صادق و امین نہیں رہے اور دو ججوں کا فیصلہ ہی پوری سپریم کورٹ کا فیصلہ اور قوم کے دل کی آواز ہے، وزیراعظم کو نااہل قرار دینے والے دو معزز جج صاحبان مستقبل کے چیف جسٹس ہیں ہمیں اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ چودھری شجاعت حسین نے مزید کہا کہ جن اداروں پر سپریم کورٹ دوران ٹرائل عدم اعتماد کا اظہار کرتی رہی اور جن کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھائے جاتے رہے انہی پر مشتمل جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم سے انصاف کی توقع نہیں، انصاف کے تقاضے پورے کرنے کیلئے وزیراعظم فوری طور پر استعفیٰ دیں۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ وزیراعظم کو اخلاقی طور پر پہلے ہی مستعفی ہو جانا چاہئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزراء نے آرڈر پڑھا ہی نہیں اور مٹھائیاں تقسیم کیں اور نعرے لگائے، نوازشریف کے پاس وزیراعظم رہنے کا کوئی جواز نہیں، ان کو تھوڑا بہت خیال ہے تو فوری طور پر مستعفی ہو جانا چاہئے اور مستعفی ہو کر جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونا چاہئے۔ چودھری شجاعت حسین نے مزید کہا کہ میں یہاں عمران خان کا ذکر ضرور کرنا چاہوں گا جن کی مسلسل کاوشوں اور جدوجہد کے باعث پانامہ کیس کا ایشو زندہ رہا اور اس کا کریڈٹ ان کو جاتا ہے۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ عمران خان سے ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں۔