Get Adobe Flash player

بینظیر قتل کیس: کئی پراسرار کردار سامنے آئے اور راستے سے ہٹا دیئے گئے

سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو قتل کیس میں کئی پراسرار کردار سامنے آئے اور راستے سے ہٹا دیئے گئے، مرکزی ملزم ڈرون حملے میں تو مخصوص اشاروں سے سب کو چونکا دینے والے خالد شہنشاہ کراچی میں قتل کر دیئے گئے۔ اس کیس سے جڑے اہم سات لوگ کیسے مرے؟ پاکستان کی تاریخ کا پراسرار باب ابھی بند ہے۔بینظیر بھٹو کا قتل ہر طرف پراسراریت کے سائے اور کئی مشکوک کردار سامنے لایا لیکن ایک ایک کر کے سب ختم ہو گئے۔ بی بی شہید کے قتل کے بعد سٹیج کی منظر عام پر آنے والی پہلی فوٹیج نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔ بینظیر بھٹو کی تقریر کے دوران ایک شخص مسلسل مشکوک اشارے کرتا رہا۔ وہ کوئی اور نہیں، بلاول ہاس کا سکیورٹی انچارج خالد شہنشاہ تھا۔ اس سے پہلے کہ راز کھلتا، خالد شہنشاہ کو کراچی میں قتل کر دیا گیا۔بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے سے جڑا ایک اور کردار پراسیکیوٹر چودھری ذوالفقار علی تھے۔ انہیں بھی دن دیہاڑے اسلام آباد میں اس وقت قتل کر دیا گیا جب وہ مقدمے کی سماعت میں حصہ لینے کیلئے عدالت جا رہے تھے۔ قتل کا مرکزی ملزم کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا سربراہ بیت اللہ محسود کو قرار دیا گیا اور پھر خبر آئی کہ بیت اللہ محسود ڈرون حملے میں مارا گیا ہے۔ملزم عباد الرحمان عرف عثمان اور نادر عرف قاری اسماعیل فورسز کے ساتھ جھڑپ میں جبکہ ملزم عبداللہ عرف صدام اور نصراللہ عرف احمد ڈرون حملے میں مارے گئے۔