Get Adobe Flash player

حساس اداروں نے ملتان اور پشین سے انصارالشریعہ کے دو کارندے گرفتار کرلیے

حساس اداروں نے ملتان اور پشین میں کارروائیوں کے دوران انصارالشریعہ کے دو کارندوں کو گرفتار کرلیا۔گزشتہ روز کراچی سے انصارالشریعہ پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ ہاشمی کو گرفتار کیا گیا تھا جس نے دوران تفتیش سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی تنظیم اعلی تعلیم یافتہ لڑکوں پر مشتمل ہے۔ذرائع کے مطابق حساس اداروں نے ملتان میں کارروائی کرتے ہوئے انصار الشریعہ کے دہشت گرد طلحہ انصاری کو گرفتار کرلیا۔تنظیم کو منوانے کیلئے پولیس کی ٹارگٹ کلنگ کی، انصارالشریعہ کے سربراہ کا انکشافذرائع کا کہنا ہیکہ دہشت گرد کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے چھاپوں سے فرار ہوکر روپوش ہوا تھا جب کہ اس کے متعدد ساتھی کراچی میں گرفتار ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کا بتانا ہے کہ طلحہ انصاری کو تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔دوسری جانب حیدرآباد میں بھی حساس اداروں نے کارروائی کی اور سائٹ ایریا میں گلشن زیل پارک کے قریب واقع انصارالشریعہ سے مبینہ تعلق رکھنے والے مفتی حبیب اللہ کے گھر کی تلاشی لی اور اس دوران لیپ ٹاپ اور دستاویزات تحویل میں لی گئیں۔ذرائع کے مطابق سیکیورٹی اداروں نے مفتی حبیب اللہ کو گزشتہ روز پشین سے گرفتار کیا تھا، مفتی حبیب اللہ آخری بار تقریبا 3 ماہ قبل حیدرآباد آیا تھا اور وہ حیدرآباد کے ہی دو مدرسوں میں پڑھتا تھا۔خواجہ اظہارحملہ: ماسٹر مائنڈ اور ہلاک دہشتگرد کے اہلخانہ کے بیانات ریکارڈذرائع کا کہنا ہیکہ مفتی حبیب کے گھر سے برآمد ہونے والی دستاویزات اور لیپ ٹاپ سے تحقیقات میں مدد لی جائے گی۔واضح رہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ خواجہ اظہار پر حملے کی تحققیات کررہے ہیں جب کہ حملے میں انصار الشریعہ نامی تنظیم کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔