Get Adobe Flash player

عالمی دبا پر بھارت پاکستان سے مذاکرات بحال کرنے پر مجبور

آبی معاملات کے بعد عالمی دبا کا شکار مودی حکومت اب پاکستان سے تمام تصفیہ طلب معاملات پر مذاکرات بحال کرنے پر مجبور ہوگئی ہے۔مودی حکومت نے اپنی تنا کی پالیسی میں تبدیلی لاتے ہوئے پہلے مرحلے میں آبی تنازعات پر پاکستان سے مذاکرات کا آغاز کیا ہے جس کے لیے مودی حکومت نے بھارتی انڈس کمشنر کو پاکستان سے مذاکرات کیلیے بھیجا ہے تاہم آبی تنازع پر دونوں ممالک کے درمیان 2 روزہ مذاکرات اسلام آباد میں آج سے شروع ہوں گے۔مذاکرات میں پاکستان کا واضح موقف ہوگا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنائے، دوسرے مرحلے میں امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بھارت کی جانب سے جلد پاکستان سے تمام تصفیہ طلب امور پر مذاکرات کیلیے اعلی سطح پر سفارتی رابطہ کیا جائے گا، پہلے مرحلے میں مذاکرات کی بحالی کیلیے رابطے خارجہ حکام کے درمیان ہوں گے، اگر بات چیت کا عمل مثبت انداز میں آگے بڑھتا ہے تو اگلے مرحلے میں سفارتی رابطے قومی سلامتی کے مشیروں یا سیکریٹری خارجہ کی سطح پر کیے جائیں گے۔علاوہ ازیں پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی بحالی اس صورت میں ممکن ہو گی جب بات چیت کے ایجنڈے میں مسئلہ کشمیر اور تمام تصفیہ طلب امور شامل ہوں گے تاہم وفاقی حکومت کے اہم ترین ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت، مودی حکومت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اور را کی مداخلت کے معاملات اپنی موثر خارجہ پالیسی اور سفارتی رابطوں کی بدولت اقوام متحدہ، عالمی فورمز اور تمام اہم ممالک کے سامنے اٹھائے ہیں جبکہ ان فورمز اور ممالک نے بھارت کے بجائے پاکستان کے موقف کو تسلیم کیا ہے جس کی وجہ سے مودی حکومت کو سفارتی محاذ پر بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔