ترکی،کوئلے کی کان میں دھماکہ280افرادجاںبحق،80سے زائد زخمی

 ترکی میں کوئلے کی کان میں دھماکے کے نتیجے میں 280 افراد ہلاک اور 80 سے زائد زخمی ہوگئے ،ہلاکتوںمیں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے جبکہ صوبے بھر کے  اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے،ترک صدر عبداللہ گل نے واقعے پراظہار افسوس کرتے ہوئے تمام ضروری سامان اور امدادی کارروائیوں کو متحرک کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ  وزیراعظم رجب طیب اردگان نے البانیہ کا اپنا مجوزہ دورہ بھی منسوخ کر دیا ،ملک میں تین روزہ سوگ کا اعلان۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق ترکی کے مغربی صوبے مانیسا میں کان میں شارٹ سرکٹ کے باعث دھماکا ہو گیا جس کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 280 تک جاپہنچی ہے ۔جب کہ 80 افراد زخمی ہیں۔ امدادی ٹیموں کے اہلکاروں نے دھماکے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا، صوبے بھر کے  اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر کے زخمیوں کے کا علاج شروع کر دیا گیا ہے۔ توانائی کے وزیر تانیر یلدیز امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تانیر یلدیز  کا کہناتھا کہ  دھماکے کے وقت کان میں 787 مزدور موجود تھے جن میں 368 کو نکال لیا گیاجبکہ زخمی ہونے والے 80 لوگوں میں سے چار کی حالت نازک ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دھماکا بجلی کی ترسیل کے نظام میں خرابی کے باعث ہوا جس کی وجہ سے کان کی لفٹ اور ہوا کا رستہ بند ہو گیا۔یلدیز کا کہنا تھا کہ خدشہ ہے کہ آنے والے گھنٹوں میں یہ مصیبت زیادہ بڑی ہوسکتی ہے۔انھوںنے بتایا کہ زیادہ ہلاکتیں کاربن مونوآکسائیڈ کی زہریلی گیس پھیلنے سے ہوئیں۔وزیر توانائی نے بتایا کہ چار سو امدادی کارکن سرگرمیوں میں مصروف ہیں جب کہ دو دہائیوں میں ملکی تاریخ میں کوئلے کی کان کے اس بدترین حادثے کی امدادی کارروائیوں کے لیے مزید ٹیمیں بھی صوما میں پہنچائی جا رہی ہیں۔یلدیز کا کہنا تھا کہ فی الوقت حادثے کے اصل محرکات کا تعین کرنا قبل از وقت ہوگا۔