کشمیریوں کا خون بہانے والا دلبیرسنگھ سہاگ بھارت کا نیا آرمی چیف تعینات،ر بی جے پی کا شدید احتجاج

بھارتی لوک سبھا میں شکست سے دوچار نظر آتی کانگریس نے کشمیریوں کا خون بہانے والے لیفٹینٹ جنرل دلبیرسنگھ سہاگ کو نیا آرمی چیف تعینات کر دیا۔مقبوضہ کشمیر میں نفرت، بربریت اور سفاکیت کی علامت جنرل دلبیر سنگھ سہاگ Dalbir Singh موجودہ آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ Gen Bikram Singh کی جگہ لے گا۔ جنرل دلبیرسنگھ نے 1974 میں کمیشن حاصل کیا کئی سال تک مقبوضہ کشمیرمیں تریپن ویں انفنٹری بریگیڈ کی کمانڈ کرتے ہوئے نہتے کشمیریوں پر زندگی تنگ کیے رکھی۔ تحریک آزادی کشمیر کو کچلنے کی کوشش میں جعلی مقابلوں میں سیکڑوں معصوم کشمیریوں کو شہید کروایا۔ دو ہزار دو میں سابق آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ نے دلبیر سنگھ کے پروموشن پر پابندی عائد کی اور آسام میں خفیہ آپریشن میں ناکامی پر ان کے خلاف انکوائری کا حکم بھی دیا لیکن دلبیر پر لگی پابندی جنرل بکرم سنگھ نے ہٹا دی۔ دلبیر سنگھ 1987 میں سری لنکا میں آپریشن Op Pawan میں بھی سفاک کمانڈر کے طور پر سامنے آیا۔ انسانیت سوز واقعات میں ملوث سفاک دلبیر سنگھ کی تعنیاتی کو بھارتی میڈیا بھی تنقید کا نشانہ بناتا رہا ہے۔دوسری طرف نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا معاملہ شدید تنازع کا شکار ہوگیا ہے۔الیکشن جیتنے والی بی جے پی نے کانگریس پر واضح کیاہے کہ جلدبازی میں سنگین غلطیوں سے بازرہے۔لیفٹیننٹ جنرل دلبیر سنگھ سہاگ کو تعینات کرکے الیکشن ہارنے والی کانگریس نے فاتح بی جے پی کے سینے پر مونگ دل دی ہے۔ دلبیر سنگھ ایک ایسے فوجی ہیں جن کی بھارت کے سابق آرمی چیف اورآج کے بی جے پی لیڈرجنرل وی کے سنگھ نے خوب درگت بنائی تھی اوران کے پروموشن تک پر پابندی لگادی تھی۔ اب جاتے جاتے کانگریس انہیں تحفے میں دے کر جارہی ہے توبے جے پی کوکسی کروٹ چین نہیں آرہا۔جنرل دلبیرسنگھ اکتوبر2007 سے دسمبر 2008 تک کارگل میں آٹھویں ماونٹین ڈویژن کے کمانڈر تھے۔ وہی دور جب پاک بھارت جنگ ہوئی تھی۔لیکن یہ جنرل بھارت کے موجودہ آرمی چیف کے لاڈلے ہیں۔ جنرل بکرم سنگھ نے ان کی پروموشن پرعائد پابندی اٹھاکرانہیں وائس چیف آف آرمی اسٹاف بنایا تھا اور سینئر ترین ہونے کے ناطے ان کے آرمی چیف بننے کی راہ بھی ہموارہوگئی۔دلبیرسنگھ 1987 میں سری لنکا میں آپریشن پون میں سفاک کمانڈرکے طور پرسامنے آئے تھے۔وہ آزادی کی جدوجہد کرنی والے کشمیریوں کاخون بہانے والی انفنٹری بریگیڈ کی بھی کمان کرچکے ہیں۔ وہ 31 جولائی کو ریٹائرہونے والے جنرل بکرم سنگھ کی جگہ لیں گے۔ایک ایسی تعیناتی جوجنرل وی کے سنگھ کے نزدیک ناجائز ہوگی۔