یمن میں القاعدہ کے حملے میں جنرل سمیت 10 فوجی ہلاک، متعدد زخمی

یمن میں 2 فوجی مورچوں پر یکے بعدیگرے القاعدہ ارکان کی جانب سے حملوں کے نتیجے میں فوجی جنرل سمیت 10 اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ جوابی کارروائی میں 13 حملہ آوربھی مارے گئے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یمن کے شورش زدہ جنوبی صوبے شبوا کے شہر اذان میں القاعدہ عسکریت پسندوں کی جانب 2 فوجی مورچوں کو نشانہ بنایا گیا جس میں فوج کے جنرل اور وزارت دفاع کے مشیر جنرل محسن سعید الغزالی سمیت 10 فوجی ہلاک ہوگئے، فوجی حکام کے مطابق اذان شہر کے علاقے جل الردا میں القاعدہ ارکان کی جانب سے فوجی مورچے پر جدید ہتھیاریوں کی مدد سے حملہ کیا گیا جس میں جنرل محسن سعید ہلاک ہوئے جبکہ صوبے شبوا میں ہی دوسرے حملے میں 9فوجی ہلاک ہوگئے جبکہ سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں القاعدہ کے 13 شدت پسند بھی مارے گئے، القاعدہ کے حملوں کے بعد امریکا نے اپنا سفارت خانہ بغیر کوئی وجہ بتائے غیر معینہ مدت تک کے لئے بند کردیا ہے۔دوسری جانب حکومت نے عسکریت پسندوں کے خلاف بھر پور کارروائی کرنے کے لئے فوجی اور سول قیادت کو دارالحکومت عدن طلب کرلیا جبکہ صوبہ شبوا اور ابویان میں دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے بھرپور طاقت کے استعمال اور تمام صوبوں کے داخلی و خارجی راستوں پر سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر چیکنگ سخت کرنے کی ہدایت کی ہے۔واضح رہے کہ کچھ روز قبل القاعدہ نے وزیر دفاع محمد نصیر احمد اور انٹیلی جنس چیف کے قافلے پر حملہ کیا تھا جس میں خوش قسمتی سے دونوں محفوظ رہے تھے۔