Get Adobe Flash player

ترکی کان کنوں کی ہلاکتوں میںاضافہ،ملک گیر مظاہرے،وزیراعظم کی گاڑی پرپتھرائو

ترکی میں کوئلے کی کان میں دھماکے سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد282ہوگئی ،کان میں پھنسے درجنوں کان کنوں کو نکالنے کیلئے اب بھی امدادی کارروائیاں جاری ہیںتاہم انکے زندہ بچ جانے کی امید ختم ہوتی جا رہی ہے،حادثے میں جاں بحق افراد کے ورثا غم سے نڈھال ہیںاور لاپتہ افراد کے لواحقین کی بڑی تعداد اسپتالوں اور کان کے باہر جمع ہے اور اپنے پیاروں کی خیریت سے متعلق خبر سننے کیلئے بے تاب ہے،واقعہ کے بعد ملک بھر میں حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اس دوران پولیس سے جھڑپوں میں متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے،ترک وزیراعظم رجب طیب اردگان نے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی اس موقع پر مشتعل افراد نے وزیراعظم کی گاڑی کو گھیرلیا اور ان کے خلاف شدید نعرے بازی کی، مظاہرین ملک میں کان کنی کے بدترین حادثے پر حکومت سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترک وزیر توانائی تانر یلدز نے کوئلے کی کان میں دھماکے کے نتیجے میں 282 ورکروں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حادثے کے مقام پر زہریلی گیسوں اور آگ کے وجہ سے تقریبا400 امدادی کارکنوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی تک 196 لاشیں ان کے لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہیںجبکہ کان میں پھنسے 150 کان کنوں کے زندہ بچنے کی امیدیں ختم ہوتی جارہی ہیں۔گزشتہ روز ترکی کے مغربی علاقے سوما میں واقع کوئلے کی کان میں دھماکے کے بعد کان میں پھنسے درجنوں کان کنوں کو نکالنے کیلئے اب بھی امدادی کارروائیاں جاری ہیںتاہم انکے زندہ بچنے کی امیدیں دم توڑتی جارہی ہیں۔ حادثے میں جاں بحق افراد کے ورثا غم سے نڈھال ہیں، حادثے میں لاپتہ افراد کے لواحقین کی بڑی تعداد اسپتالوں اور کان کے باہر جمع ہے اور اپنے پیاروں کی خیریت سے متعلق خبر سننے کیلئے بے تاب ہے