مذاکرات بے نتیجہ،ایران جوہری پروگرام پر عالمی طاقتوں کے سامنے ڈٹ گیا

ایران اپنے متنازعہ جوہری پروگرام پر عالمی طاقتوں کے سامنے ڈ ٹ گیاتاحال فریقین کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے،فریقین مسئلے کا حل نکالنے کے لیے سرجوڑ کر بیٹھ گئے،مذاکرات کے دوسرے دورمیں انتہائی مشکلات پیش آسکتی ہیں،توقع کی جا رہی ہے کہ 20 جولائی تک ایران، امریکا، روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے درمیان مذاکرات کے تین مزید دور ممکن ہو جائیں گے، تاہم مذاکراتی عمل آگے بڑھانے کیلیے دوسرا ہونے والا دور انتہائی اہم ہے،غیرملکی میڈیا کے مطابق ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کو حتمی معاہدے کے تابع کرنے کیلئے ایران اور دنیا کی چھ بڑی طاقتوں کے درمیاں مذاکرات کی میز ایک مرتبہ پھر سجنے کے بعد مذاکرات کادوسرادورشروع ہوگیا تمام فریق سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں تاکہ طے شدہ نظام الاوقات کے مطابق حتمی معاہدہ جولائی میں ممکن بنا سکیں،ویانا کے برساتی موسم میں جوہری مذاکرات آہستہ آہستہ آگے بڑھنے کی اطلاعات ہیں تاہم دونوں اطراف سے فی الحال یہی کہا گیا ہے کہ مذاکرات کا یہ دور بڑا سخت ہو سکتا ہے،یورپی یونین کے خارجہ امور کے شعبے کی سربراہ کیتھرین آشٹن نے کہاکہ پہلے دن کی بات چیت مفید اور سیر حاصل تھی، اس ماحول میں امید ہے کہ آگے بڑھے سنجیدہ اور سخت ماحول میں بات چیت ہو گی،ادھر ایرانی ٹی وی کے مطابق ایرانی حکام نے اپنے پرامن جوہری پروگرام پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے کا فیصلہ کیاہے ،ایرانی میڈیاکے مطابق ایرانی حکام مسئلے کا حل چاہتے ہیں مگر اس کیلیے اپناکوئی بھی جوہری منصوبہ بندنہیں کیاجائیگاتوقع کی جا رہی ہے کہ 20 جولائی تک ایران، امریکا، روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے درمیان مذاکرات کے تین مزید دور ممکن ہو جائیں گے، تاہم مذاکراتی عمل آگے بڑھانے کیلیے دوسرا ہونے والا دور انتہائی اہم ہے۔