نئی افغان پالیسی طویل المدت ہے،جنرل جان نکلسن

افغانستان میں امریکی فوج  کے کمانڈر جنرل جان نکلسن  نے کہا ہے کہ  طالبان امریکا سے جنگ نہیں جیت سکتے اس لئے انہیں چاہیے کہ وہ امن عمل کا حصہ بن جائیں،ٹرمپ حکومت کی افغانستان سے متعلق نئی پالیسی یہ ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ خطے میں طویل عرصے تک سرگرم رہے گا۔امریکی میڈیا کے مطابق کابل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل جان نکلسن کا کہنا تھا کہ ہم افغانستان میں ناکام نہیں ہوں گے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی بھی امریکا کی طویل المدتی جنگ کی عکاس ہے۔امریکی فوج کے جنرل نے کہا کہ طالبان ایک جرائم پیشہ گروہ بن چکا ہے اور وہ امریکا سے جنگ نہیں جیت سکتا اس لئے انہیں چاہیے کہ امن عمل کا حصہ بنے۔انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ خوش آئند ہے کہ فوج پر افغانستان مشن کو ختم کرنے کے لئے کوئی حتمی ڈیڈ لائن نہیں دی گئی اور یہ پالیسی ہمارے عزم کو ثابت کرتی ہے۔جنرل نکلسن کا کہنا تھا کہ امریکی اور نیٹو ایڈوائزرز کی جانب سے افغان ایئرفورس اور اسپیشل فورس کی تربیت کے لئے مختلف پروگرامز کو بڑھایا جائے گا اور مقامی فورسز کو ہر اعتبار سے منظم کیا جائے گا۔خیال رہے کہ رواں سال فروری میں جنرل نیکلسن نے کانگریس کو بتایا تھا کہ انہیں افغانستان میں مزید فوجیوں کی ضرورت ہے جب کہ امریکی صدر نے نئی افغان پالیسی میں 4 ہزار فوجیوں کو افغانستان بھیجنے کی منظوری دی تھی۔ ناقدین اور خود ڈونلڈٹرمپ بھی صدر منتخب ہونے سے قبل امریکہ کی افغان پالیسی کو یہ کہہ کر کڑی تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں کہ اربوں ڈالر کے اصراف اور 16 سال تک امریکی فوج اور اس کے اتحادیوں کی کارروائیوں کے باوجود افغانستان میں قیامِ امن کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔رواں سال فروری میں جنرل نکلسن نے کانگریس کی ایک کمیٹی میں سماعت کے دوران کہا تھا کہ انہیں افغانستان کی صورتِ حال میں پیش رفت کے لیے مزید چند ہزار امریکی فوجی درکار ہوں گے۔گو کہ صدر ٹرمپ افغانستان میں تعینات امریکی فوجی دستوں میں اضافے کی منظور دے چکے ہیں لیکن تاحال انہوں نے اور نہ ہی ان کے فوجی مشیران نے یہ بتایا ہے کہ مزید کتنے فوجی کتنے عرصے کے لیے افغانستان بھیجے جائیں گے۔افغانستان میں اس وقت لگ بھگ 8400 امریکی فوجی موجود ہیں جن کی بنیادی ذمہ داری افغان سکیورٹی فورسز کو تربیت اور کارروائیوں میں معاونت فراہم کرنا ہے۔