برطانیہ میں تیزاب سے حملوں کے واقعات میں اضافہ

  برطانیہ میں تیزاب سے حملوں کے واقعات میں اضافہ ہوگیا، متاثرہ  افراد کا کہنا ہے کہ  زندگی تبدیل کرنے والے ان زخموں نے انھیں تباہ کر دیا ہے اور وہ تنہائی میں رہنے لگے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق    برطانیہ میں آئے دن تیزاب حملوں کے واقعات سامنے آنے لگے ہیں جس نے لوگوں کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔رواں سال جون میں مشرقی لندن میں جمیل مختار اور ان کی رشتے دار خاتون پر تیزاب پھینکا گیا، اس حملے میں وہ بری طرح جھلس گئے جس کے بعد انھیں کچھ دنوں میں کومے میں رکھا گیا۔ جمیل مختاراس حملے کے بعد لندن سے بولٹن منتقل ہو گئے لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان کا اعتماد بالکل ختم ہو گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ چند سکینڈ میں سب کچھ تبدیل ہو گیا، اس نے مجھے برباد کر دیا ہے۔جمیل مختار کے چہرے کا ایک حصہ اور پورا جسم ہی جھلس گیا۔ اس حملے میں ان کی ایک آنکھ اور کان کو بھی نقصان پہنچا۔ ایک اور  تیزاب    حملے میں مانچسٹر میٹروپولیٹن یونیورسٹی کی طالبہ ریشم خان کی بائیں آنکھ متاثر ہوئی اور اب تک دو بار ان کی جلد کی پیوندکاری ہو چکی ہے۔  حکام کا کہنا ہے کہ تیزاب حملوں پر قابو پانے کے لئے  موئثر اقدامات کئے جا رہے ہیں۔