Get Adobe Flash player

بھارت سرحدی حدودکے مسئلے پر کہتا کچھ اور کرتا کچھ ہے،چین

بھارت کی جانب سے متنازع علاقے میں سڑک تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کی اطلاعات پر چین نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کہتا کچھ ہے اور کرتا کچھ ہے۔ میڈیا میں چینی سرحد کے قریب متنازع علاقے میں سڑک کی تعمیر پر آنے والی خبروں پر جواب دیتے ہوئے چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ہو شینگ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ بھارت نے خود کو ہی تھپڑ جڑ دیا ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ سرحدی حدود کے مسئلے پر بھارت کہتا کچھ ہے اور کرتا کچھ ہے۔ بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز نے دعوی کیا تھا کہ ملک کے وزارت داخلہ نے پیگنگ جھیل سے بیس کلومیٹر کے فاصلے پر سڑک کی تعمیر کی منظوری دی ہے۔چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ہو شینگ نے کہا کہ بھارت کے اس فیصلے سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور بڑھے گی۔جون میں ڈولام کے متنازع علاقے میں چین کے سڑک تعمیر کرنے کی کوشش پر دونوں ممالک کی فوجیں آمنے سامنے ہیں۔چین اسے اپنی زمین بتاتا ہے جبکہ بھارت اس پر بھوٹان کے دعوے کے ساتھ کھڑا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ سٹریٹجک طور پر اہم علاقے میں سڑک بننے نہیں دے سکتا۔ترجمان ہو شینگ نے کہا کہ بھارت حالیہ دنوں چین کی سڑک بنانے کی کوششوں کے پیچھے لگا ہے لیکن بھارت نے اپنی سرگرمیوں سے ہی یہ ثابت کیا ہے کہ وہ کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں بھارت کی جانب سے سڑک کی تعمیر وہاں امن اور استحکام کے لیے فائدہ مند نہیں ہے۔خیال رہے کہ بھارت ، چین اور بھوٹان کی سرحد کے قریب ایک ٹرائی جنکشن پر سڑک کی تعمیر کے حوالے سے دو ایشیائی حریفوں کے درمیان تعطل برقرار ہے۔دونوں ہی ملک اپنی اپنی سرحدوں پر فوجیوں کی بنیادی سہولیات میں اضافہ کر رہے ہیں، کیونکہ دونوں ہی اس علاقے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔انڈیا کی حکومت کا موقف ہے کہ چین کی جانب سے سڑک کی تعمیر 'ملک کی سلامتی کیلئے  خطرہ اور موجودہ صورت میں اہم تبدیلی کا باعث'ہے۔دونوں ملک سرحد پر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے حوالے سے ایک دوسرے کے منصوبوں کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔چین میں ڈوکلام اور انڈیا میں ڈولام کہا جانے والا علاقہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تعطل کا اہم سب ہے۔