اسرائیلی فوج فلسطینی سکول میں گھس کر طلبا پر وحشیانہ تشدد

قابض صہیونی فوجگذشتہ روز مقبوضہ بیت المقدس میں ایک فلسطینی اسکول میں  دیواریں پھلانگ کر اندر داخل ہوگئی جب طلبا اپنی اپنی کلاسوں میں تدریس میں مصروف تھے۔عینی شاہدین کے مطابق جمعرات کو اسرائیلی فوج کی بھاری نفری قبلہ اول کے قریب ایک اسکول میں جا گھسی، طلبا اور اساتذہ کو ہراساں کیا۔ کئی طلبا کو ان کے کلاسوں میں گھس کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، بعد ازاں دو طلبا کو اٹھا کر فوجی گاڑیوں میں ڈال کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔اسکول کے پرنسپل سمیر جبریل نے بتایا کہ کم سے کم 20 صہیونی فوجی بندوقیں تانیں اسکول میں داخل ہوگئے۔ اسرائیلی فوج کو دیکھ کر فلسطینی طلبا بہت خوف کا شکار تھے۔ قابض فوج نے پورے اسکول کی تلاشی لی اور اسکول کے تمام کمرہ ہائے جماعت میں گھس کر فلسطینی طلبا کو زدو کوب کیا۔ اس دوران دو طالب علموں محمد مزعرو اور ایھاب شاہین کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ قابض فوج کی طرف سے دعوی کیا گیا تھا کہ فلسطینی طلبا نے اہلکاروں پر پتھرا ئوکیاتھا وہ انہیں گرفتار کرنے کے لیے اسکول میں آئے ہیں۔سمیر جبریل نے اسرائیلی فوج کی اس بدمعاشی اور غنڈہ گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ کسی تعلیمی ادارے میں بغیر اجازت کے گھس کر طلبا کو تشدد کا نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور عالمی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔